متحدہ عرب امارات

یو اے ای ملازمتیں: نوجوان ملازمین ترقی کے لیے کمپنی بدلنے کے بجائے محکمہ تبدیل کرنا پسند کرتے ہیں

خلیج اردو
دبئی کی ایک لاجسٹکس کمپنی میں کام کرنے والی 27 سالہ لین جابر کے لیے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے کارپوریٹ کمیونیکیشن میں جانا کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں تھا، بلکہ صرف ایک نیا تجربہ کرنے کا موقع تھا۔ یو اے ای میں ‘لیٹرل مووز’ یعنی کمپنی چھوڑے بغیر محکمے کی تبدیلی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر نوجوان پیشہ ور افراد کے درمیان۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان ملازمین روایتی ترقی کے زینے پر چڑھنے کے بجائے مختلف کاروباری شعبوں میں اپنی مہارتیں اور تجربات بڑھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

لین نے اکاؤنٹنگ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور شروع میں بجٹ رپورٹس اور اخراجات کے آڈٹس پر کام کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے اکاؤنٹنگ پڑھی تھی، لیکن ایک سال کے بعد احساس ہوا کہ مجھے اعداد و شمار کے بجائے کہانی سنانے اور حکمت عملی میں زیادہ دلچسپی ہے۔” مینیجر کی حمایت سے انہوں نے بغیر کمپنی چھوڑے اپنی ٹیم تبدیل کر لی۔

رمضان کے دوران کمپنی کی ایک داخلی مہم میں رضاکارانہ طور پر حصہ لینے کے بعد لین کو کمیونیکیشن ٹیم کی توانائی اور مقصدیت نے متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "وہ لوگ ملازمین کی ویڈیوز، سوشل میڈیا مواد اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پر کام کر رہے تھے، جو مجھے بہت پسند آیا۔” مینیجر کی حمایت سے انہوں نے انٹرنل ٹرانسفر کے لیے درخواست دی اور چار ماہ کے اندر محکمے کی تبدیلی کر لی۔

ابوظہبی میں کام کرنے والے 29 سالہ سمیر ٹی نے بھی اسی طرح کا فیصلہ کیا۔ وہ کسٹمر سروس میں کام کر رہے تھے لیکن ملازمین کی انگیجمنٹ پراجیکٹس میں حصہ لینے کے بعد ایچ آر ٹیم میں شامل ہونے کی درخواست دی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ترقی حاصل کرنے کا معاملہ نہیں تھا، میں صرف وہیں کام کرنا چاہتا تھا جہاں مجھے ترقی کے مواقع ملیں۔ میں جانتا تھا کہ ایک ہی شعبے میں رہ کر میری ترقی محدود ہو جائے گی۔”

محکموں کے اندر تبدیلیوں کا یہ رجحان ورک پلیس کی ترجیحات میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ نوجوان ملازمین اب عہدے یا تنخواہ میں اضافے کا انتظار کرنے کے بجائے خود کو نئے چیلنجز میں آزمانے کے خواہاں ہیں، چاہے وہ اسی ادارے کے اندر ہوں۔ ایچ آر ماہرین کے مطابق، ان تبدیلیوں کی بڑی وجوہات تجسس، پیشہ ورانہ تھکاوٹ یا کیریئر جمود سے بچنے کی خواہش ہوتی ہیں۔

یو اے ای کی ایک ریٹیل گروپ کی ایچ آر منیجر مایا الحمادی نے کہا کہ "ہم نے اندرونی موبیلیٹی پروگرام کو باقاعدہ شکل دی ہے تاکہ ٹیلنٹ کو برقرار رکھا جا سکے اور بھرتی کے اخراجات کم ہوں۔ اگر کوئی ملازم کسی اور شعبے میں دلچسپی یا صلاحیت دکھا رہا ہو تو ہم اسے اندرونی طور پر منتقل کرنا بہتر سمجھتے ہیں بہ نسبت کہ وہ کسی اور کمپنی میں چلا جائے۔”

اداروں کے لیے فائدہ مند

انہوں نے وضاحت کی کہ محکمے کی تبدیلیاں بڑی تنظیموں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں جہاں مختلف بزنس یونٹس ہوتے ہیں اور معلومات کا تبادلہ اور لچک کامیابی کی کلید ہوتی ہے۔ "یہ رجحان خاص طور پر ٹیکنالوجی، میڈیا، لاجسٹکس اور فنانس جیسے شعبوں میں مؤثر ہے جہاں مہارتیں قابل منتقلی ہوتی ہیں یا پراجیکٹس میں کراس-فنکشنل ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔”

ادارے کے نقطہ نظر سے، اندرونی تبدیلیاں نئے ملازمین کی تربیت کے وقت کو کم کرتی ہیں، ادارہ جاتی علم محفوظ رکھتی ہیں اور ہمہ گیر ٹیمیں بناتی ہیں۔ الحمادی نے مزید کہا کہ "یہ ملازمین کے حوصلے کو بھی بڑھاتا ہے۔ جب ملازمین دیکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ایک ہی کردار میں مقید نہیں ہیں تو وہ کمپنی کے مستقبل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔”

دبئی میں واقع ایک ریکروٹمنٹ ایجنسی کی سینئر ایچ آر کنسلٹنٹ فرح مبارک کے مطابق، "ماضی میں لیٹرل موو کو صرف ایک مجبوری سمجھا جاتا تھا جس میں ترقی یا تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوتا تھا، لیکن اب یہ ایک اسٹریٹجک کیریئر فیصلہ بن چکا ہے، خاص طور پر ان نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے جو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کر کے خود کو لچکدار بنانا چاہتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیاں اندرونی موبیلیٹی کو اب سکسیشن پلاننگ کا حصہ بنا رہی ہیں۔ "جو ملازمین مختلف شعبوں میں کام کر چکے ہوتے ہیں، وہ بعد میں قیادت کے کردار سنبھالنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔ اس سے ان میں کاروباری بصیرت اور کراس-ٹیم تعاون کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button