متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی نمائندہ سائیکلسٹ کا لیوکیمیا کے علاج کیلئے ٹور ڈی فرانس فیمز میں حصہ، ذاتی کہانی سے عالمی مہم تک

خلیج اردو
راس الخیمہ: متحدہ عرب امارات کی 48 سالہ ڈچ شہری امکے آبما (Imke Abma) نے اپنی ذاتی جدوجہد کو امید، شمولیت اور انسانی ہمدردی کی طاقتور مہم میں بدل دیا ہے۔ وہ ٹور ڈی فرانس فیمز (Tour de France Femmes) کے ہر مرحلے میں سائیکلنگ کرنے والی واحد اماراتی نمائندہ ہیں، جو دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 16 خواتین کے ساتھ اس مہم کا حصہ ہیں۔ اس مقابلے کا آغاز 26 جولائی کو ہوا اور یہ 3 اگست تک جاری رہے گا۔

یہ دوڑ تمغوں کے لیے نہیں بلکہ خون کے سرطان (لیوکیمیا) کے شکار بچوں کے لیے شعور اور فنڈز اکٹھا کرنے کے مقصد سے ہے۔ امکے اور ان کی ٹیم Cure Leukaemia کے لیے سائیکلنگ کر رہی ہیں، جو کہ ایک برطانوی خیراتی ادارہ ہے۔

امکے کی اس مہم کے پیچھے دو ذاتی تجربات ہیں — اپنے شوہر کے کم عمر کزن ڈین کلارک کی لیوکیمیا کے باعث موت اور اپنی بیٹی میری کی پیدائشی دل کی بیماری کے ساتھ جدوجہد۔ میری کی زندگی بچانے کے لیے 2014 میں انہیں سنگاپور جانا پڑا جہاں کرسمس ایو پر اس کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔ آج میری 11 سال کی ہو چکی ہے اور صحت مند زندگی گزار رہی ہے۔

فٹنس سے انسانی خدمت تک کا سفر

امکے نے تین سال قبل مقامی ٹرائتھلونز کے ذریعے سائیکلنگ کا آغاز کیا اور بعد ازاں UCI Gran Fondo ورلڈ چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کیا۔ جلد ہی انہوں نے اس کھیل کو ایک بڑے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور خواتین، خاندانوں اور بچوں کو سائیکلنگ کی طرف راغب کرنے کا مشن شروع کیا۔

Ride For Unity نامی عالمی مہم سے جڑ کر امکے نے انسانوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے سائیکلنگ کو بطور ذریعہ استعمال کیا۔ اسی دوران انہیں Cure Leukaemia کی فنڈ ریزنگ رائیڈ کا حصہ بننے کا موقع ملا جو ان کے دل کے قریب مشن ثابت ہوا۔

قافلے کے ساتھ ہر قدم پر حمایت

اس مشن کی تیاری کے دوران امکے نے جبیل جیس پر ‘ایوریسٹنگ’ کا کارنامہ انجام دیا، جس میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے سب سے اونچے پہاڑ پر سات بار چڑھائی کر کے 8,848 میٹر کی بلندی حاصل کی۔ ان کی اس انتھک محنت کو امریکن یونیورسٹی آف راس الخیمہ (AURAK) کے طلباء نے ایک دستاویزی ویڈیو کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔

امکے نے اپنے شوہر پال کلارک کی حمایت کو اپنی طاقت کا بنیادی ذریعہ قرار دیا، جو راس الخیمہ میں جنرل منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی بیٹی میری اور شوہر ٹور ڈی فرانس فیمز کے دوران ہر قدم پر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

"یہ سفر ہمارے خاندان کا مشترکہ سفر بن چکا ہے۔ ہم اپنی بیٹی کو یہ سکھا رہے ہیں کہ طاقت صرف جسمانی نہیں بلکہ عزم، محبت اور کمیونٹی کے جذبے میں بھی ہوتی ہے،” امکے نے کہا۔

امکے آبما 5 اگست کو راس الخیمہ واپس لوٹیں گی۔ ان کے مطابق سائیکلنگ اب صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک کہانی سنانے، شعور بیدار کرنے اور اتحاد کا ذریعہ ہے۔ "بچوں میں خون کے سرطان کے علاج کے لیے تحقیق کی فوری ضرورت ہے۔ سائیکلنگ نے مجھے اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دیا ہے، جو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button