
خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے انسانی وسائل و امارات کاری نے موسم گرما کے دوران مزدوروں کے تحفظ کے لیے نافذ کی جانے والی دوپہر کے اوقات میں کام کی پابندی کے نفاذ سے قبل مختلف تعمیراتی مقامات پر معائنے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قانون اتوار 15 جون سے نافذ العمل ہوگا۔
یہ ضابطہ، جو کہ اپنے 21ویں سال میں داخل ہو چکا ہے، کے تحت ملک بھر میں مزدوروں کو روزانہ دوپہر 12:30 بجے سے سہ پہر 3:00 بجے تک براہ راست دھوپ یا کھلی جگہوں میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ وقت ملک میں شدید گرمی کا ہوتا ہے اور مزدوروں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیر برائے انسانی وسائل ڈاکٹر عبدالرحمن العور نے حال ہی میں دبئی کے ایک تعمیراتی مقام کا دورہ کیا تاکہ موسمی دوپہر کی پابندی کے نفاذ کے لیے کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضابطہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کام کرنے کی جگہوں پر مزدوروں کے لیے سایہ دار جگہیں، مناسب کولنگ آلات، وافر مقدار میں پانی، ابتدائی طبی امداد کے آلات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں گرمی سے بچایا جا سکے۔
استثنیٰ کی وضاحت
Mohre کے مطابق بعض تکنیکی کاموں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے، جیسا کہ اسفالٹ بچھانا یا کنکریٹ ڈالنا جنہیں مخصوص وقت میں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے کام جنہیں فوری انجام دینا ضروری ہو تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی سے بچایا جا سکے — جیسے پانی یا بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ، ٹریفک مسائل یا دیگر بنیادی سہولیات کی خرابی — انہیں بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
خلاف ورزی پر جرمانہ
پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر فی مزدور 5,000 درہم تک جرمانہ عائد کیا جائے گا، اور اگر خلاف ورزی متعدد مزدوروں کے ساتھ کی گئی ہو تو مجموعی جرمانہ 50,000 درہم تک جا سکتا ہے۔
وزارت نے ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے انسپکشن سسٹمز کے ذریعے اس قانون پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی تاکہ کوئی بھی مزدور ممنوعہ اوقات میں کام پر مجبور نہ ہو۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع وزارت کے کال سینٹر 600590000، ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے دیں۔





