
خلیج اردو
13 اپریل 2021
دبئی : کسی کے گھر میں کرائے پر رہنا پوری دنیا میں مروجہ نظام ہے جس میں کسی گھر میں کرائے پر رہتے ہوئے مرمت کاکام مالک مکان کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ایسے بھی کیسز ہوتے ہیں جب مالک مکان مرمت سے انکاری ہو جاتا ہے تو ایسے میں کرایہ دار کو کیا کرنا چاہیئے ؟
شارجہ میں رہائش پزیر گلف نیوز کے ایک قاری نے اس حوالے سے اپنا تجربہ بتایا ہے جو ان کا مالک مکان کی جانب سے معمول کے مرمت کاکام کرنے سے نکار سے متعلق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میں شارجہ میں النہدا کا رہائشی ہوں اور میں اس حوالے سے مدد کا خواستگار ہوں جو میرے ایک مکان کی مرمت سے متعلق ہے۔ شارجہ کے ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پزیر ہوں۔ میں یہاں 2016 سے رہ رہا ہوں۔ پہلے وہ مرمت کاکام کر دیا کرتا تھا لیکن گزشتہ ایک سال سے وہ مینٹنس نہیں کرتا۔
اس حوالے سے میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں کس محکمے میں شکایت کر سکتا ہوں جو ایک شہری کے مینٹنس سے متعلق ہے۔
گلف نیوز نے یہ سوال لیگل ایڈوائزر محمد گمال کے ساتھ اٹھایا جنہوں نے وضاحت کی کہ اس حوالے سے کرایے نامہ میں درج شرائط کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ کرایے نامہ کے قوانین وضاحت کرتے ہیں جس میں کرایہ دار اور مالک مکان کی ذمہ داریاں ہوتیں ہیں۔
مرمت کے حوالے سے ذمہ دار فریق کا تعین ہونا ضروری ہے کہ وہ کرایہ نامہ میں درج ہو کہ کون کونسی مرمت کاکام کون کرے گا۔ اسے کرایے کے معاہدے میں واضح کیا جانا چاہئے جس پر دونوں فریق دستخط کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ معاہدے پر ہے اور اسی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوگا۔
کرایہ کا قانون کرایہ دار کو ریاست میں جائیداد کی فراہمی کا پابند ہے جس میں یہ معاہدہ کے وقت موصول ہوا تھا۔ اسی طرح مکان مالک بھی سیکیورٹی ڈپازٹ واپس کرنے کا پابند ہے جو کرایہ دار سے لیا گیا تھا تاکہ معاہدے کی مدت کے اختتام پر جائیداد کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔
Source : Khaleej Times







