
خلیج اردو
ابوظبی: ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں آئی ٹی سرٹیفکیشن حاصل کرنے والے تقریباً ایک تہائی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مہارتوں کے حامل سرٹیفائیڈ پروفیشنلز کو نہ صرف ترجیح دی جا رہی ہے بلکہ ان کی مالی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔
پیئرسن وی یو ای کی جانب سے جاری کردہ 2025 ویلیو آف آئی ٹی سرٹیفکیشن رپورٹ کے مطابق، 82 فیصد سرٹیفائیڈ پروفیشنلز نے کیریئر میں خود اعتمادی میں اضافہ محسوس کیا، جب کہ 63 فیصد نے سرٹیفکیشن کے بعد ترقی حاصل کی یا اس کی توقع کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 32 فیصد ملازمین کو تنخواہوں میں اضافہ ملا، جن میں سے تقریباً ایک تہائی کو 20 فیصد سے زیادہ اضافہ دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرٹیفائیڈ مہارتوں کی مارکیٹ میں ٹھوس قدر ہے، اور آج کی ڈیجیٹل معیشت میں ایسی مہارتیں ترقی اور مالی انعامات کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
یو اے ای میں جہاں ڈیجیٹل اکانومی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، یہ نتائج مقامی سطح پر روزگار کے رجحانات سے ہم آہنگ ہیں۔ ریکروٹمنٹ ماہر عوس اسماعیل نے کہا کہ "آج یو اے ای میں کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اور اے آئی جیسے شعبوں میں سرٹیفکیشن کی مانگ غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سرٹیفکیشن پروفیشنلز کی موجودہ صلاحیتوں اور مسلسل سیکھنے کے رجحان کا مظہر ہیں، یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں ایسے امیدواروں کو ترجیح دے رہی ہیں جو مسلسل مہارتوں میں بہتری لا رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 84 فیصد سرٹیفائیڈ پروفیشنلز آئندہ 12 ماہ میں مزید سرٹیفکیشنز لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو کہ تکنیکی شعبے میں مستقل سیکھنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
پیئرسن وی یو ای کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر گیری گیٹس نے کہا کہ "سرٹیفائیڈ ملازمین نہ صرف بہتر معیار کا کام کرتے ہیں بلکہ زیادہ مؤثر بھی ہوتے ہیں۔” رپورٹ کے مطابق، 79 فیصد سرٹیفائیڈ افراد بہتر معیار کا کام، 70 فیصد زیادہ پیداواری صلاحیت اور 76 فیصد بہتر تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، جب کہ 74 فیصد وہ کام انجام دینے کے قابل بن گئے ہیں جو ان کی مہارت سے باہر سمجھے جاتے تھے۔
عالمی سطح پر 69 فیصد آجرین نے اے آئی پر سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور یو اے ای کی کمپنیاں بھی اس رجحان کو اپنا رہی ہیں۔ یہاں ملازمین کی تربیت کے لیے بجٹ مختص کیے جا رہے ہیں اور سرٹیفکیشن حاصل کرنے والوں کو مراعات دی جا رہی ہیں۔
شارجہ میری ٹائم اکیڈمی کے ٹیلنٹ ایکوزیشن اسپیشلسٹ ندیم احمد کے مطابق، "آج کی مہارت پر مبنی مارکیٹ میں آئی ٹی سرٹیفکیشنز کو قابلیت، ترقی پسند ذہنیت اور تکنیکی تیاری کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ایچ آر ٹیمیں امیدواروں کو فلٹر کرتے وقت سرٹیفکیشن کی بنیاد پر ترجیح دیتی ہیں، اور انہیں اس بات کا ثبوت مانا جاتا ہے کہ متعلقہ فرد اہم اور اسٹریٹجک ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔”
سی آئی او میگزین کے ایک حالیہ سروے میں بھی انکشاف کیا گیا کہ 31 فیصد پروفیشنلز کو سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے بعد 20 فیصد تک تنخواہوں میں اضافہ ملا۔
عوس اسماعیل نے کہا کہ یو اے ای میں آج کمپنیز قلیل مدتی مالی فوائد کے بجائے طویل مدتی کارکردگی، تیز تر نتائج، اور بیرونی ماہرین پر انحصار کم کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں، جو جدید ڈیجیٹل معیشت میں ایک دانشمندانہ سرمایہ کاری ہے۔







