متحدہ عرب امارات

شارجہ میں ٹریفک چالان پر 35 فیصد رعایت کا اعلان، شہریوں نے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے احتیاط سے گاڑی چلانے کا عزم کیا

خلیج اردو
شارجہ: ٹریفک چالان پر 35 فیصد رعایت کے اعلان کے بعد شارجہ کے شہریوں نے اس فیصلے کو بڑی سہولت قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف مالی دباؤ کم کرے گا بلکہ محفوظ ڈرائیونگ کی ترغیب بھی دے گا۔

شارجہ ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن سالم بن سلطان القاسمی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کے 60 دن کے اندر ادائیگی پر 35 فیصد رعایت دی جائے گی۔

یہ رعایت صرف جرمانوں پر نہیں بلکہ لیٹ فیس، گاڑی ضبطی اور اسٹوریج چارجز پر بھی لاگو ہو گی۔ 60 دن کے بعد اور ایک سال کے اندر ادائیگی پر صرف جرمانے پر 25 فیصد رعایت دی جائے گی۔

"میرے ذمے 4,000 درہم سے زائد کے جرمانے تھے”

انوراگ تاری، جو انشورنس سیکٹر سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ ان کے ذمے 4,290 درہم کے چالان تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ بہت بڑی رقم ہے، خاص طور پر جب اسکول فیس اور کرایہ بھی دینا ہو۔”

انوراگ نے کہا کہ ان کے زیادہ تر چالان صبح کی جلدی میں رفتار کی حد عبور کرنے یا چند منٹ کے لیے غلط پارکنگ کرنے پر ہوئے۔ انہوں نے کہا، "یہ حکومت کا ایک اچھا قدم ہے اور میرے لیے ایک سبق بھی۔ اب نہ جلد بازی کروں گا، نہ پارکنگ میں لاپرواہی۔”

"قوانین رعایت کے انتظار میں نہیں، ذمہ داری سے عمل ہونا چاہیے”

عبدالحکیم، جو مویلیح کے ایک جم میں ٹرینر ہیں، نے کہا کہ اگرچہ رعایت مالی طور پر مددگار ہے، لیکن تمام ڈرائیورز کو سڑکوں پر احتیاط کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، غلط پارکنگ اور لین کی خلاف ورزی پر متعدد بار چالان ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا، "رعایت کی وجہ سے میں شکر گزار ہوں، مگر ساتھ ہی شرمندہ بھی ہوں۔ ہمیں قواعد پر عمل کرنے کے لیے آفرز کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ اب وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی سیٹ بیلٹ باندھتے ہیں اور پارکنگ فیس ادا کرتے ہیں، چاہے چند منٹ کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ "یہ صرف پیسے کا نہیں، حفاظت کا معاملہ ہے۔”

"چھوٹی غلطیاں بھی بڑا بوجھ بن جاتی ہیں”

سید ہاشم، النہدہ میں رہائش پذیر 39 سالہ سیلز ایگزیکٹو اور دو بچوں کے والد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول چھوڑنے کے وقت جلد بازی میں انہیں 300 درہم کا چالان ہوا کیونکہ وہ ٹریفک میں پھنس گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کبھی کبھار انجانے میں قوانین کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے، جیسے ایک بار وہ ٹرک لین میں چلے گئے یا پارکنگ کا وقت غلط سمجھ لیا۔ "ہم نے صرف کھانے کے لیے گاڑی روکی اور واپس آئے تو فائن لگا تھا۔”

ہاشم کے مطابق، "یہ رعایت ہمارے جیسے افراد کے لیے ریلیف ہے، چھوٹی غلطیاں بڑی رقم میں بدل جاتی ہیں۔ اب ہم سب کو دوسرا موقع ملا ہے، اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button