
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جیل سے ایک واضح پیغام میں کہا ہے کہ اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کر سکے۔
اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ "جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے، تو اسے کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں، مگر میری قوم ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے، نہ آزاد جمہوریت، نہ ہی آزاد میڈیا۔”
انہوں نے کہا کہ دو سال سے جیل میں صرف پاکستانی قوم کی آزادی کے لیے قید ہوں تاکہ قوم کو غلام نہ بنایا جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور جابر نظام کو شکست دیں۔
عمران خان نے واضح کیا کہ مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ "ملک کی خاطر بارہا مذاکرات کی بات کی، مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد آئین، قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ اب صرف ملک گیر احتجاجی تحریک ہی واحد راستہ ہے۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف کی ملک گیر احتجاجی تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا، اور پانچ اگست کو، جب ان کی قید کو دو برس مکمل ہوں گے، تحریک کا نقطہ عروج ہو گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے کارکنان و رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ جو عہدیدار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا، وہ ابھی الگ ہو جائے۔ "یاد رکھیں! جو آج اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، کل وہی انہیں کچل دیں گے، اور عوام بھی معاف نہیں کریں گے۔”
عمران خان نے اپنی قید کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ 22 گھنٹے چھ بائے آٹھ کے سیل میں بند رہتے ہیں، کتابیں اور خبریں بند کر دی گئی ہیں، بچوں اور وکلأ سے رابطے منقطع ہیں، اور طبی معائنہ بھی کئی ماہ سے نہیں کروایا گیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کی قید تنہائی کو بھی غیر انسانی قرار دیا۔
عمران خان نے کہا کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ‘بغل بچے’ ہیں، جو انہیں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑے رہیں گے۔
اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے فاٹا کے حقوق کی بحالی اور فنڈز کی بندش، اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی معطلی کو قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت عوامی نمائندوں کو صرف اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ وہ مریم نواز کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔






