متحدہ عرب امارات

نئی ماؤں کی یو اے ای میں لمبی میٹرنٹی چھٹی کی اپیل، موجودہ چھٹی ناکافی قرار

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں خواتین ملازمین کو 60 دن کی میٹرنٹی چھٹی دی جاتی ہے، جن میں سے ابتدائی 45 دن مکمل تنخواہ اور اگلے 15 دن آدھی تنخواہ پر ہوتے ہیں۔ تاہم، نئی ماؤں کا کہنا ہے کہ یہ چھٹی ان کے لیے ناکافی ہے کیونکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر ابھی مکمل بحال نہیں ہوتیں اور انہیں بچے کی دیکھ بھال کے ساتھ کام کے تقاضے پورے کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

غیر ملکی ماؤں کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہے کیونکہ وہ اپنی سالانہ چھٹیوں کو بھی بچا کر میٹرنٹی چھٹی کے ساتھ ملا کر زیادہ دن گزارنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دبئی میں ایک بھارتی خاتون سینئر سافٹ ویئر انجینئر نے بتایا کہ انہوں نے زچگی کے پورے عرصے میں کام کیا اور یہاں تک کہ پیدائش کے دو دن پہلے تک دفتر جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سیکشن کے بعد تقریباً اڑھائی ماہ میں دفتر واپس جانا ان کے لیے جسمانی طور پر شدید تکلیف دہ رہا۔

انہوں نے کہا کہ جسمانی مسائل کے ساتھ ساتھ جذباتی دباؤ بھی بہت زیادہ تھا کیونکہ بچہ ابھی ماں سے جدا ہونے کا عادی نہیں تھا اور وہ خود بھی جذباتی اتار چڑھاؤ کا شکار تھیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں دفتر کے باتھ روم میں چھپ کر رونا پڑتا تھا کیونکہ وہ اپنے بچے کو چھوڑ کر آنے کی وجہ سے شدید اضطراب میں تھیں۔

ڈی ای ایس میں کام کرنے والی صوحیٰ نے بھی اپنے تجربات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف 40 دن بعد کام پر واپس آئیں اور ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی۔ صوحیٰ نے کہا کہ وہ پریشان اور ذہنی دباؤ کا شکار رہیں اور نرسنگ کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ دفتر میں دودھ نکالنے کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے انہیں باتھ روم میں دودھ نکالنا پڑا۔

اسی طرح شام کی لوجین نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کے پیدائش کے 80 دن بعد کام پر واپس گئیں لیکن اب بھی مکمل طور پر صحت مند محسوس نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو ہر دو سے تین گھنٹے بعد دودھ پلانا پڑتا ہے جس سے ان کی نیند بری طرح متاثر ہوئی اور ان کا تھکن کا عالم ناقابل بیان رہا۔

لوجین نے مزید کہا کہ قابل اعتماد چائلڈ کیئر کا بندوبست ایک بڑا چیلنج ہے اور بیماری کی صورت میں دفاتر سے کوئی سہولت یا لچک نہیں دی جاتی۔

تمام ماؤں کا مشترکہ مطالبہ تھا کہ انہیں زیادہ طویل میٹرنٹی چھٹی دی جائے اور دفاتر میں نرسنگ کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بغیر کسی جسمانی یا ذہنی دباؤ کے اپنے بچوں کو پال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ماؤں کا درد قومیت، مذہب یا سماجی حیثیت سے بالاتر ہے اور سب کو مساوی سہولیات ملنی چاہئیں۔

لوجین نے مطالبہ کیا کہ صرف میٹرنٹی چھٹی ہی نہیں بلکہ دفاتر میں ورک فرام ہوم کی سہولت اور اضافی دنوں کی چھٹیوں پر بھی غور ہونا چاہیے تاکہ مائیں اپنے بچوں کی بیماری یا دیگر ضروریات میں بہتر انداز میں شریک ہو سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button