متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں اب سیاح خودکار ٹیکسی میں مفت سفر کر سکتے ہیں، سادیات اور یاس آئی لینڈ سے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک سہولت دستیاب

خلیج اردو
ابوظبی: 22 اپریل — ابوظبی میں مسافر اب سادیات اور یاس آئی لینڈ سے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک خودکار (ڈرائیور لیس) ٹیکسی کے ذریعے بالکل مفت سفر کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت فی الحال آزمائشی مرحلے میں ہے اور عوام کیلئے مفت دستیاب ہے۔

ابوظبی میں اسمارٹ اور پائیدار ٹرانسپورٹ کی طرف بڑھتے قدم کے طور پر، یہ سروس پہلے صرف یاس اور سادیات آئی لینڈز کے درمیان فعال تھی، تاہم اب اسے وسعت دے کر ایئرپورٹ تک پہنچایا گیا ہے۔

ابوظبی موبیلیٹی کی نمائندہ فاطمہ الحنطوبی کے مطابق، "یہ توسیع اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ہم خودکار ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کو روزمرہ نظام کا حصہ بنانے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔”

یہ خودکار گاڑیاں 2021 سے اب تک 30,000 سے زائد کامیاب سفر مکمل کر چکی ہیں، جن میں 430,000 کلومیٹر کا فاصلہ بغیر کسی حادثے کے طے کیا گیا۔

الحانطوبی کے مطابق، ان گاڑیوں نے 99 فیصد خودمختاری کے ساتھ کم سے کم انسانی مداخلت پر کام کیا، جس سے ان کی محفوظ اور مؤثر کارکردگی کا ثبوت ملتا ہے۔ اس وقت یہ گاڑیاں مخصوص حدود (geo-fenced zones) میں لیول 4 خودمختاری پر کام کر رہی ہیں، جن میں ایک سیکیورٹی آپریٹر بھی موجود ہوتا ہے۔

ان گاڑیوں میں جدید سینسرز جیسے LiDAR، ریڈار، GPS، اور ہائی ریزولوشن کیمرے شامل ہیں، جو 360 درجے کے ویو فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ نظام سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور قانون کے مطابق مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔

یہ سہولت "Txai” موبائل ایپ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے، جہاں سے صارفین گاڑی کی لوکیشن، آمد کا وقت اور دیگر تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔

ابوظبی میں اس وقت 18 خودکار ٹیکسیاں فعال ہیں، جو یاس آئی لینڈ، سادیات آئی لینڈ اور زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

اس سروس کو استعمال کرنے والے سیاحوں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسپین سے آنے والی سیاح ایلینا الفریڈو نے کہا، "ہم ابتدا میں کچھ ہچکچائے، لیکن سفر کے دوران یہ ایک بہت خوشگوار تجربہ رہا۔”

اسی طرح، بھارتی سیاح شاشی کرن راماسوامی نے کہا، "میرے بچوں نے حیرت سے بار بار پوچھا کہ گاڑی کو راستہ کیسے معلوم ہو رہا ہے۔ یہ ایک دلچسپ اور محفوظ سفر تھا۔”

ابوظبی میں خودکار ٹیکسیاں اب محض ایک تجربہ نہیں، بلکہ دارالحکومت کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button