
خلیج اردو
ابوظہبی / دمشق
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، اردن، عراق، بحرین، کویت، قطر، عمان، لبنان اور ترکی نے شام پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے شام کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ مؤقف وزرائے خارجہ کے دو روزہ مشاورتی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے کی صورت میں سامنے آیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ شام کی خودمختاری، سلامتی، اتحاد اور تمام شہریوں کے حقوق کی ضمانت پر مبنی نئے شام کی تعمیر میں شامی حکومت کی حمایت کی جائے گی۔
متحدہ عرب امارات نے 16 جولائی کو شام میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے السویدہ میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا اور شام کے استحکام و علاقائی وحدت کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
مشترکہ بیان میں شامی صدر احمد الشرع کی اس یقین دہانی کا خیر مقدم کیا گیا کہ السویدہ میں عام شہریوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کے ذمے داران کا احتساب کیا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے شام بھر میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
بیان میں اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور شام کی خودمختاری پر سنگین حملہ قرار دیا گیا، جس سے خطے میں عدم استحکام اور شامی حکومت کی تعمیر نو کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
عرب وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ شامی علاقوں سے مکمل انخلا پر مجبور کرنے کے لیے اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ساتھ ہی شام میں اسرائیلی جارحیت بند کرنے اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2766 اور 1974 کے معاہدہ برائے علیحدگی کی مکمل عمل داری کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
شام نے بھی اسرائیلی جارحیت کے نتائج پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی باضابطہ درخواست دے دی ہے۔







