
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan نے عیدالاضحیٰ سے قبل ملک بھر کی جیلوں اور اصلاحی مراکز سے 956 قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی، معاشرتی ہم آہنگی اور خاندانی رشتوں کو مضبوط بنانے کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے، تاکہ سزا مکمل کرنے والے افراد کو دوبارہ معاشرے میں مثبت انداز میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق مختلف مقدمات میں سزا پانے والے قیدی اس فیصلے سے فائدہ اٹھائیں گے، جبکہ صدر شیخ محمد بن زاید ان قیدیوں کی مالی ذمہ داریاں اور جرمانے بھی ادا کریں گے، جو ان کی سزا کے دوران عائد ہوئے تھے۔
یو اے ای میں مذہبی اور قومی مواقع پر قیدیوں کی معافی اور رہائی کی روایت طویل عرصے سے جاری ہے، جسے قیادت کی جانب سے اصلاح، درگزر اور دوسرا موقع دینے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف سیکڑوں خاندانوں کو خوشی ملے گی بلکہ رہائی پانے والے افراد مالی دباؤ میں کمی کے ساتھ اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں گے۔
دوسری جانب Humaid bin Rashid Al Nuaimi نے بھی عیدالاضحیٰ سے قبل 230 قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے، جبکہ Sultan bin Muhammad Al Qasimi نے شارجہ میں 227 قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے اقدامات یو اے ای میں اصلاحی نظام، سماجی استحکام اور انسانی ہمدردی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں قیدیوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔







