متحدہ عرب امارات

بارکہ جوہری پلانٹ حملے کے بعد انور قرقاش کا سخت ردعمل، “آبنائے ہرمز سے بارکہ تک بلیک میلنگ کی سوچ” قرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدارتی سفارتی مشیر Anwar Gargash نے بارکہ جوہری پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد خطے میں “افراتفری اور بلیک میلنگ کی ذہنیت” پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے عالمی امن اور معیشت کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔

یو اے ای حکام کے مطابق 17 مئی کو ابوظہبی کے علاقے الظفرہ میں قائم Barakah Nuclear Power Plant کے بیرونی حصے میں موجود بجلی کے جنریٹر پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے بتایا کہ تین ڈرونز میں سے دو کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ تیسرا جنریٹر سے ٹکرا گیا۔

ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری کی سطح یا جوہری حفاظت متاثر ہوئی۔ بعد ازاں تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرونز عراقی سرزمین سے آئے تھے۔

انور قرقاش نے تحقیقات کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے پُرامن جوہری تنصیب کو نشانہ بنانا پورے خطے کیلئے ایک خطرناک اشارہ ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ریاستی عملداری کی کمزوری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارکہ حملہ اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دراصل ایک ہی “افراتفری اور بلیک میلنگ” کی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں، جو عالمی معیشت، بین الاقوامی نظام اور عوام کے تحفظ کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔

قرقاش کے مطابق “آبنائے ہرمز سے بارکہ تک خطرات اب صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی نظام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔”

Strait of Hormuz دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور ایل این جی کی بڑی ترسیل گزرتی ہے۔ ایران اور اسرائیل و امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اس آبی راستے کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

بارکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ عرب دنیا کا پہلا کمرشل جوہری بجلی گھر ہے، جس میں جنوبی کوریا کے ڈیزائن کردہ چار اے پی آر 1400 ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں۔ یہ پلانٹ یو اے ای کی تقریباً 25 فیصد بجلی کی ضروریات پوری کرتا ہے اور کاربن اخراج میں کمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بارکہ پر حملے کی کوشش نے خلیجی خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر اور حساس تنصیبات کے تحفظ سے متعلق نئے خدشات کو جنم دیا ہے، جبکہ اس واقعے نے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button