متحدہ عرب امارات

دبئی عالمی ارب پتیوں کا نیا مرکز بن گیا، 17 ارب پتی افراد نے یو اے ای کو مستقل رہائش کیلئے چن لیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات تیزی سے دنیا کے امیر ترین سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور ارب پتی افراد کا پسندیدہ مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں اب 17 ارب پتی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور کاروبار چلا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق Forbes Middle East کی تازہ درجہ بندی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں مقیم ارب پتی افراد کی دولت کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ، تعلیم، لاجسٹکس، تعمیرات اور ریٹیل جیسے شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

فہرست میں سرفہرست Changpeng Zhao ہیں، جنہیں “سی زیڈ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی مجموعی دولت تقریباً 110 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ وہ کرپٹو ایکسچینج Binance کے بانی ہیں اور ان کی موجودگی دبئی اور ابوظہبی کو عالمی کرپٹو حب کے طور پر مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یو اے ای کو ارب پتیوں کیلئے پرکشش بنانے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں ذاتی آمدنی پر ٹیکس نہ ہونا، سرمایہ کار دوست ویزا پالیسی، سیاسی استحکام، لگژری رئیل اسٹیٹ، عالمی فضائی رابطے اور کاروبار شروع کرنے میں آسانی شامل ہیں۔

دبئی خاص طور پر ایشیا، یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بیک وقت کاروبار چلانے والے عالمی سرمایہ کاروں کیلئے مرکزی بیس بنتا جا رہا ہے۔ کورونا وبا کے بعد دنیا بھر میں دولت کی منتقلی کے رجحان نے بھی امیر خاندانوں کو دبئی منتقل ہونے پر آمادہ کیا۔

یو اے ای میں مقیم بھارتی نژاد ارب پتی شخصیات بھی اس فہرست میں نمایاں ہیں، جن میں Vinod Adani، M. A. Yusuff Ali، Renuka Jagtiani، Ravi Pillai اور Sunny Varkey شامل ہیں۔

LuLu Group اور Landmark Group جیسی کمپنیاں خلیجی خطے میں صارفین کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کے ساتھ غیر معمولی ترقی کر چکی ہیں، جبکہ GEMS Education نے نجی تعلیم کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنا اثر بڑھایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یو اے ای اب صرف کاروباری مرکز نہیں بلکہ عالمی دولت کی منتقلی کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں عالمی سرمایہ کار محفوظ طرزِ زندگی، جدید انفراسٹرکچر، بین الاقوامی اسکولوں، صحت کی سہولیات اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع کی وجہ سے منتقل ہو رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ارب پتی افراد کی آمد سے رئیل اسٹیٹ، سیاحت، بینکاری، ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری جیسے شعبوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ رہائشی اخراجات اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافے جیسے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button