
خلیج اردو
دبئی کے رہائشی محمد کے۔ نے جب اپنے بیٹے کے لیے فوری وزٹ ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی تو سوشل میڈیا پر ایک کمپنی کے اشتہار پر اعتماد کر بیٹھے، جس میں تیز ترین ویزا سروس کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم جیسے ہی انہوں نے رقم منتقل کی، کمپنی نے رابطہ منقطع کر دیا اور چند ہی دنوں میں ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ ہو گیا۔
محمد نے بتایا کہ "میں نے سنا کہ یو اے ای کی ایک بڑی کمپنی میں واک ان انٹرویو ہونے والا ہے۔ انٹرویو جمعرات کو تھا اور مجھے پیر کے دن خبر ملی، بیٹا ایک سال سے بے روزگار ہے، اس لیے فوری ویزا لینے کی کوشش کی۔ کمپنی نے اضافی 200 درہم فیس طلب کی، ویزا اگلے دن ملنے کا وعدہ کیا، لیکن یہ سب فراڈ نکلا۔”
اس واقعے کے بعد فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی (ICP) نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر مجاز دفاتر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے تیز ویزا سروس کے جھانسے میں نہ آئیں۔ اتھارٹی کے مطابق مشکوک اکاؤنٹس اور ویب سائٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
وقت کی اہم ضرورت
‘اسمارٹ ٹریولز’ کے جنرل منیجر صفیر محمد کے مطابق ICP کا یہ پیغام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ "ہم نے متعدد افراد کو دھوکہ کھاتے دیکھا ہے، سوشل میڈیا پر ایک دن میں ویزا یا کم فیس میں ویزا کا جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بہت سے متاثرین ہمارے پاس آئے جنہیں ہم نے اصل عمل کے ذریعے رہنمائی فراہم کی۔”
‘المس بزنس مین سروس’ کے جنرل منیجر عبدالغفور نے وضاحت کی کہ کوئی بھی کمپنی تیز ویزا سروسز کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ "ویزہ جاری کرنا یا نہ کرنا اور اس میں کتنا وقت لگے گا، یہ مکمل طور پر ICP یا جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارن افیئرز (GDRFA) کے اختیار میں ہے۔ اگر کوئی کمپنی ویزا کی گارنٹی دے تو یہ خود ایک خطرے کی نشانی ہے۔”
اعتماد کو نقصان
صفیر محمد کے مطابق ان جعلی کمپنیوں کی وجہ سے صارفین کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ "ہم ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر کافی سرمایہ لگاتے ہیں، لیکن جب جعلی کمپنیاں آن لائن فراڈ کرتی ہیں تو تمام ڈیجیٹل مارکیٹ میں موجود کمپنیوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔”
عبدالغفور نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد (انفلوئنسرز) اور گروپ ایڈمنز کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ "بہت سے انفلوئنسرز لاعلمی میں ایسی کمپنیوں کے لیے اشتہارات کرتے ہیں جو ویزا سروسز کا غلط دعویٰ کر رہی ہوتی ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کا اپنا قانونی طور پر پکڑے جانے کا خطرہ ہے بلکہ وہ عوام کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ واٹس ایپ اور فیس بک گروپس کے ایڈمنز کو بھی محتاط رہنا چاہیے کہ ان کے پلیٹ فارم پر کیا پوسٹ ہو رہا ہے۔






