
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے ایران کے حالیہ حملوں کو “جوابی کارروائی” قرار دینے کے مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے منافی اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے جنیوا اجلاس میں امارات کے مستقل مندوب جمال المشراخ نے کہا کہ ایران کے اقدامات کو جوابی حملے کہنا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ یہ “غیر قانونی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش” ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے بیانات عالمی نظام کے بنیادی اصولوں، خصوصاً ریاستی خودمختاری کے احترام، کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے لیے دی جانے والی وجوہات گمراہ کن ہیں اور عالمی برادری کو دھوکہ دینے کی کوشش ہیں۔
جمال المشراخ کے مطابق شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو خطے کے امن و استحکام کو کمزور کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 17 دنوں سے متحدہ عرب امارات، خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 میں ایران سے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس قرارداد کی 136 رکن ممالک نے حمایت کی، جس میں واضح کیا گیا کہ یہ کارروائیاں عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
اماراتی مندوب نے مزید کہا کہ ایران ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں میں 7 افراد ہلاک اور 142 زخمی ہوئے، جو ایک “بلااشتعال اور سنگین جارحیت” ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ عالمی تجارت، بحری راستوں اور معیشت پر بھی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، اور وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے اور فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔







