متحدہ عرب امارات

غیر اماراتیوں پر مقامی لہجے کے استعمال کی پابندی، ماہرین نے اسے بچوں میں درست زبان کے فروغ کا اقدام قرار دے دیا

خلیج اردو
ابوظہبی – متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے حالیہ میڈیا پالیسی کے تحت اماراتی لہجے کے استعمال کو صرف شہریوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جس پر زبان و ثقافت کے ماہرین نے بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی لسانی شناخت کے تحفظ اور بچوں میں درست زبان کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

شارجہ سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ ماں اور نانی، لمیاء راشد الشامسی، جو 2014 سے سوشل میڈیا کے ذریعے اماراتی الفاظ کو محفوظ کر رہی ہیں، اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں: "جب میں کسی میڈیا شخصیت کو اماراتی لہجے میں غلط بولتے سنتی ہوں، تو مجھے فکر ہوتی ہے کہ بچے اس سے متاثر نہ ہوں۔ ہمیں اپنی زبان کو سنبھالنا ہے اور حکومت کا یہ فیصلہ درست سمت میں قدم ہے۔”

محققہ عالیہ نے بتایا کہ "اماراتی لہجے کا 80 فیصد حصہ عربی زبان سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ ادائیگی میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن الفاظ کی اصل عربی ہی ہے۔” ان کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ کسی اماراتی لفظ کی تلاش کرتی ہیں، وہ عربی لغت میں ضرور مل جاتا ہے۔

یہ لہجہ امارات کے ساحلی، پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں آباد مختلف قبائل کی موجودگی کا آئینہ دار ہے۔ اگرچہ مختلف علاقوں میں الفاظ و اظہار کے انداز میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، تاہم لہجے کی اصل شناخت ایک جیسی ہے۔

الرمسہ انسٹیٹیوٹ کی بانی اور تعلیمی پالیسیوں میں ماسٹرز کی حامل، اماراتی کاروباری خاتون حنان الفردان نے بتایا کہ انہوں نے غیر عربی بولنے والوں کو اماراتی لہجہ سکھانے کے لیے ادارہ قائم کیا۔ ان کا کہنا ہے: "یہ اقدام نئی نسل میں ہماری زبان کے لیے فہم اور محبت کو بڑھائے گا۔ بچوں کو اپنے لہجے میں گفتگو سکھانا ضروری ہے۔”

حنان نے واضح کیا کہ "یہ فیصلہ مکمل پابندی نہیں بلکہ تجارتی سطح پر لہجے کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے ہے۔ سوشل یا تعلیمی استعمال پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔”

رأس الخیمہ سے تعلق رکھنے والی ادیبہ و محققہ شیخہ محمد الہی نے کہا، "یہ قانون مستقبل کی نسلوں کے لیے ہے۔ میں اپنی کتابوں میں اکثر اماراتی الفاظ کی وضاحت کرتی ہوں اور اپنے پوتوں پوتیوں سے قدیم اماراتی لہجے میں بات کرتی ہوں تاکہ وہ اسے اپنا سکیں۔”

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میڈیا میں بعض اوقات اماراتی لہجے کا مذاق اڑایا جاتا ہے، جس سے ثقافتی شناخت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی اس شناخت کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے اماراتی لہجے کی صحیح تفہیم کو فروغ ملے گا، تعلیمی وسائل میں اضافہ ہوگا، اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر اس کی مزید ترویج ممکن ہو گی، جو مقامی باشندوں اور غیر ملکیوں کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button