متحدہ عرب اماراتمعلومات

اماراتی لہجے میں بات کرنے کا اختیار صرف یو اے ای کے شہریوں کو ہوگا، نئی پالیسی نافذ

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں نئی پالیسی کے تحت صرف اماراتی شہریوں کو میڈیا چینلز پر اماراتی لہجے میں گفتگو کی اجازت ہو گی۔ بدھ کے روز وفاقی قومی کونسل  کے اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض اداروں کی جانب سے اس پالیسی کی خلاف ورزیوں کو نوٹ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ میڈیا مواد میں اماراتی لہجے اور ثقافتی علامات کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا۔ پالیسی کا مقصد اماراتی ثقافت اور قومی شناخت کی اصل روح کو محفوظ رکھنا ہے۔

ایف این سی کی رکن نعیمہ الشرحان نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے ثقافتی رجحانات اور میڈیا پلیٹ فارمز کی کثرت کی وجہ سے اماراتی لہجے کی درست نمائندگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ "ہماری زبان اور شناخت کو غیر درست انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے اس کے تاریخی اور سماجی پس منظر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔”

اس پر ردعمل دیتے ہوئے نیشنل میڈیا آفس اور اماراتی میڈیا کونسل کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بوطی الحامد نے بتایا کہ ماضی میں ایسے اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جنہوں نے قومی شناخت کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ "تین ماہ قبل ایک نئی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے مطابق کوئی بھی فرد اماراتی لہجے میں کسی منصوبے پر بات نہیں کر سکتا جب تک وہ اماراتی شہری نہ ہو اور قومی لباس نہ پہنے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے پیغامات زیادہ موثر انداز میں پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اخبارات اور رسالوں کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ الحامد نے سرکاری اور ذاتی میڈیا کے فرق پر بھی روشنی ڈالی، جس میں افراد اپنے پلیٹ فارمز سے معلومات پھیلاتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button