
خلیج اردو
دبئی کی ایک جامعہ کی تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کو ابتدائی تعلیم میں شامل کرنے سے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں اوسطاً 8 فیصد بہتری آئی ہے۔
یہ تحقیق روچیسٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (RIT)، دبئی کے محققین نے کی، جس میں ایک ذاتی نوعیت کے AI روبوٹ کو براہِ راست طلبہ کے ساتھ شامل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق اس تجرباتی گروپ کی کارکردگی انسانی اساتذہ کی روایتی تدریس کے مقابلے میں نمایاں بہتر رہی۔
تحقیق کی سربراہی ڈاکٹر جنان منصف نے کی، جنہوں نے بتایا کہ "ڈیوٹ (Duet)” نامی یہ روبوٹ مشین لرننگ الگوردمز اور Robot Operating System (ROS) کے ذریعے طلبہ کی صلاحیتوں کو جانچنے میں سو فیصد درستگی رکھتا ہے، اور ان کے سیکھنے کے انداز کے مطابق مواد اور چیلنجز خود بخود ایڈجسٹ کرتا ہے۔
ڈاکٹر جنان کے مطابق، "ہماری تحقیق نے واضح کر دیا کہ AI سسٹمز تعلیم کی افادیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگلا قدم جذباتی ذہانت کے میدان میں روبوٹکس کا استعمال ہوگا، جس کے ذریعے انسان نما روبوٹ روزانہ بچوں سے سوالات کریں گے اور ان کے جذباتی مسائل کے حل میں معاون ہوں گے۔
ماہرین کی محتاط حمایت
یو اے ای کے ماہرین تعلیم نے اس تحقیق کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال سوچ سمجھ کر اور توازن کے ساتھ ہونا چاہیے۔
شیفا یوسف علی، بانی آئیڈیا کریٹ، نے کہا کہ "ٹیکنالوجی بچوں کی فطری تجسس، حرکات، سوالات اور تعلقات کی پیاس کے پیچھے چلے، نہ کہ آگے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں کو پہلے کھیلنے، محسوس کرنے اور جڑنے کا موقع دینا چاہیے، اور "AI یا روبوٹ صرف مددگار ہو سکتے ہیں، قائد نہیں۔”
ڈاکٹر وندنا گاندھی، بانی برٹش آرچرڈ نرسری، نے بتایا کہ ان کی نرسری میں پہلے ہی AI ٹولز کو تدریس، جائزہ، اور نصاب کی منصوبہ بندی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ٹیک بیسڈ گیمز، انٹرایکٹو اسٹوری ٹیلنگ ڈیوائسز اور سمارٹ لرننگ اسٹیشنز جیسے اوزار بچوں کی توجہ اور ذہنی مشغولیت میں بہتری لا رہے ہیں۔
ماہرین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی تعلیم میں ٹیکنالوجی معاون کا کردار ادا کرے، مرکزی کا نہیں، اور بچوں کو صرف "ڈیجیٹل صارف” نہیں بلکہ مکمل انسان سمجھا جائے، جن کے سوالات اور کہانیاں سننے کے لائق ہیں۔







