متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے اسکولوں میں تاخیر سے آغاز اور ماحول دوست اسباق، طلبہ کی ذہنی صحت بہتر بنانے کی کوششیں

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے مختلف اسکول طلبہ کی ذہنی اور جذباتی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اسکول کے اوقات میں نرمی اور ماحول دوست تعلیمی پروگرامز متعارف کرا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو زیادہ پُرسکون، یکسو اور سیکھنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا ہے۔

ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ صبح کے معمولات میں معمولی سی تبدیلی بھی طلبہ کی ذہنی صحت اور تعلیمی دلچسپی پر گہرے مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ تبدیلی اس بڑھتی ہوئی سوچ کا حصہ ہے کہ طلبہ کی فلاح و بہبود، تعلیمی کارکردگی جتنی ہی اہم ہے۔

اسکولوں کی جانب سے تاخیر سے آغاز کی پالیسی کے تحت طلبہ کو دن کا آغاز اپنی رفتار سے کرنے کا موقع مل رہا ہے، چاہے وہ اسکول میں سرگرمیوں میں حصہ لینا ہو، مزید آرام کرنا ہو یا گھر والوں کے ساتھ پُرسکون ناشتہ کرنا۔ اس سے اساتذہ بھی مستفید ہو رہے ہیں، جو اضافی وقت کو تیاری، ورزش یا خاندان کے ساتھ گزارنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

تعلیمی نظام میں ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آگاہی اور پائیداری کو بھی طلبہ کی فلاح کا اہم جزو بنایا جا رہا ہے۔ ماحول دوست سرگرمیاں اور وائلڈ لائف ریکارڈنگ جیسے منصوبے بچوں میں نہ صرف جذباتی توازن بلکہ زمین کے لیے ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کر رہے ہیں۔

#MEtime کیا ہے؟
نارڈ اینگلیا انٹرنیشنل اسکول ابو ظہبی کے پرنسپل لیام کلینن کے مطابق، اسکول نے محسوس کیا کہ صبح کے اوقات خاندانوں کے لیے مشکل ہو سکتے ہیں۔ اسی سوچ سے #MEtime کا تصور سامنے آیا، جس کا مقصد نیند، ذہنی تیاری اور جذباتی توازن کو تعلیمی کامیابی جتنا ہی اہم تسلیم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت کچھ طلبہ اسکول میں سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جبکہ بعض کو گھر پر اضافی آرام کا موقع ملتا ہے۔ نتیجتاً طلبہ زیادہ مثبت، پُراعتماد اور سیکھنے کے لیے تیار ہو کر اسکول آتے ہیں۔

اسی طرح بلوم ورلڈ اکیڈمی میں تاخیر سے آغاز کو “فیملی فرسٹ” پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے، تاکہ صبح کے وقت خاندان اکٹھے رہ سکیں اور بغیر دباؤ کے دن کا آغاز کریں۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق اس سے نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کی کارکردگی اور ذہنی سکون میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تاخیر سے آغاز ٹریفک میں کمی اور پرسکون سفر میں بھی مدد دیتا ہے، جبکہ نوجوانوں کے جدید طرزِ زندگی سے بھی ہم آہنگ ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں صبح 9 بجے اسکول کا آغاز معمول ہے، اور دبئی میں بھی اس ماڈل کو والدین کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

ماحولیاتی آگاہی اور طلبہ کی فلاح
دوسری جانب ریپٹن ابو ظہبی میں ماحولیاتی تعلیم کو عملی اقدامات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اسکول کے عبوری پرنسپل اسٹیفن ڈیوس کے مطابق، ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل پڑھاتے وقت طلبہ کو جذباتی طور پر مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔

اسی طرح جبل علی اسکول میں طلبہ، والدین اور اساتذہ نے ایک ہفتے پر مشتمل “بایو بلیٹز” سرگرمی میں حصہ لیا، جس کے دوران 3,600 سے زائد جنگلی حیات کے مشاہدات ریکارڈ کیے گئے۔ اس اقدام نے ثابت کیا کہ ماحول سے جُڑاؤ طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر بناتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کو نہ صرف تعلیمی طور پر بلکہ جذباتی اور سماجی طور پر بھی مستقبل کے چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button