
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں صنعتی شعبے کی بڑی کمپنیاں قومی افرادی قوت کو ملازمتیں دینے کے مقررہ اہداف سے بھی زیادہ اماراتی شہریوں کو بھرتی کر رہی ہیں۔ ابوظہبی میں منعقدہ صنعتی کیریئر نمائش میں متعدد اداروں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اماراتی نوجوانوں کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
توانائی ٹیکنالوجی کمپنی ایس ایل بی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈینی راہل نے کہا کہ ان کی کمپنی نے قومی بھرتی کا دس فیصد ہدف سرکاری طور پر لازمی قرار دیے جانے سے پہلے ہی حاصل کر لیا تھا۔ ان کے مطابق کمپنی اس سال مزید نوّے سے زائد اماراتی شہریوں کو ملازمت دینے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ نمائش کے ذریعے تقریباً پچاس آسامیوں کو پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، "مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جو نوجوان اماراتیوں کے لیے انتہائی پُرکشش ثابت ہو رہے ہیں اور ہم ان شعبوں میں بہترین صلاحیتوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔”
تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنی سی سی سیون بھی ابوظہبی میں سول انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، لاجسٹکس، سپلائی چین اور صحت و سلامتی کے شعبوں میں تقریباً بیس نئی آسامیوں پر اماراتی شہریوں کی بھرتی کر رہی ہے۔
وزارتِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی کی قائم مقام معاون سیکریٹری ابتسام السعدی نے کہا کہ آج کل زیادہ سے زیادہ اماراتی نوجوان نجی شعبے میں ملازمتوں کی تلاش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہاں سیکھنے اور ترقی کے مواقع زیادہ ہیں۔
صنعتی شعبے میں کام کرنے والی ٹیکنیکل سیلز انجینئر حمدہ المہری نے کہا کہ بہت سے نوجوان صنعت کے شعبے کو صرف فیکٹریوں تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ "یہ ایک پوری دنیا ہے جہاں ہر شخص اپنی صلاحیتوں کے مطابق جگہ بنا سکتا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں عالمی سطح کے تربیتی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور وہ اپنی کمپنی کی جانب سے خصوصی تربیت کے لیے ارجنٹینا بھی گئیں، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق سے متعلق قیمتی تجربہ حاصل کیا۔
نمائش میں شریک بھرتی کرنے والے اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت سے واقفیت اور بدلتی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ملازمت کے حصول کے لیے نہایت اہم بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق صنعتی شعبہ اب صرف مینوفیکچرنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ توانائی، جینومکس، خوراک کے تحفظ، ڈیجیٹل آپریشنز، جدید تحقیق اور دیگر جدید شعبوں میں بھی وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ابتسام السعدی نے کہا، "کمپنیاں اماراتی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ باصلاحیت اماراتی نوجوان صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں اور انہیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔”







