
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں سردیوں کا موسم گزر چکا ہے اور اب شہری گرمی کی شدت کو محسوس کر رہے ہیں۔ قومی مرکز برائے موسمیات (NCM) کے مطابق، رواں سال اپریل کا مہینہ گزشتہ دہائی کا سب سے گرم مہینہ ثابت ہوا ہے، جس کے ساتھ بارشوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
تاہم ماہرین فلکیات کے مطابق موسم گرما کا باضابطہ آغاز اب بھی باقی ہے۔ دبئی فلکیاتی گروپ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں موسم گرما کا آغاز 21 جون کو ہوگا، جب سورج فلک کے شمالی ترین مقام پر پہنچے گا۔ اس لمحے کو گرمیوں کا انقلابِ شَمسی (Summer Solstice) کہا جاتا ہے۔
دبئی فلکیاتی گروپ کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری نے بتایا کہ سورج 21 جون کو صبح 6:42 بجے اپنی بلند ترین پوزیشن پر ہو گا، جس کے ساتھ ہی گرمیوں کا تین ماہ پر محیط دور شروع ہو جائے گا، جو 23 ستمبر کے قریب موسم خزاں کی آمد تک جاری رہے گا۔
فلکیات دان ابراہیم الجروان کے مطابق، 18 سے 24 جون کے درمیان متحدہ عرب امارات میں سال کے طویل ترین دن ہوں گے، جن میں دن کی روشنی کا دورانیہ 13 گھنٹے اور 43 منٹ تک پہنچے گا۔
موسم گرما کا پہلا مرحلہ 21 جون سے 10 اگست تک جاری رہے گا، جس میں دن کے وقت درجہ حرارت 41 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ اور رات کو 26 سے 29 ڈگری کے درمیان رہے گا۔ اس دوران شدید گرمی کی لہریں بعض اوقات درجہ حرارت کو معمول سے 3 ڈگری زائد تک لے جا سکتی ہیں، اور کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
موسم گرما کے دوسرے مرحلے میں، 11 اگست سے 23 ستمبر تک، درجہ حرارت بلند رہتے ہوئے زیادہ نمی محسوس کی جائے گی۔
نیشنل سینٹر آف میٹیرولوجی (NCM) نے گرمی سے بچاؤ کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر جاری کی ہیں:
-
زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال
-
دھوپ سے براہِ راست بچاؤ
-
ہلکے رنگ اور سوتی کپڑوں کا استعمال
-
ٹوپی اور دھوپ کا چشمہ پہننا
-
دوپہر کے وقت باہر جانے سے گریز
-
بند جگہوں کی مناسب ہواداری یقینی بنانا






