متحدہ عرب امارات

یو اے ای ٹیم ایمیریٹس کا ٹور ڈی فرانس پر غلبہ، ویلنز نے مرحلہ جیت لیا، پوگاچار سبقت برقرار رکھے ہوئے

خلیج اردو
کارکاسون، فرانس:
یو اے ای ٹیم ایمیریٹس کے سائیکلسٹ ٹم ویلنز نے ٹور ڈی فرانس کے مرحلہ 15 میں شاندار انداز میں فتح حاصل کی، جہاں انہوں نے 45 کلومیٹر طویل پہاڑی مرحلے میں تن تنہا دوڑتے ہوئے کارکاسون کے قلعہ بند شہر میں کامیابی حاصل کی۔

ٹیم کے اسٹار رائیڈر تاڈیج پوگاچار نے اپنی پیلی جرسی برقرار رکھتے ہوئے جونس ونگیگارڈ پر 4 منٹ 13 سیکنڈ کی سبقت قائم رکھی، جنہیں ابتدائی بڑے حادثے میں پھنسنے کے بعد برتری کے حصول کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔

ویلنز ابتدائی بریک وے گروپ کا حصہ تھے، جو اس وقت مؤثر انداز میں الگ ہوا جب حادثے نے پورے مقابلے کو جھنجھوڑ دیا۔ پانچ رائیڈرز پر مشتمل گروپ میں سے اچانک ویلنز نے رفتار تیز کرتے ہوئے دوسروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ یو اے ای ٹیم کی مجموعی طور پر پانچویں فتح تھی، اس سے قبل پوگاچار چار مراحل جیت چکے ہیں، جس سے ٹیم کی اس سال کی مہم کو ایک غالب حیثیت حاصل ہوئی ہے۔

بیلجیئم کے یومِ آزادی سے ایک دن قبل ویلنز نے فنش لائن عبور کرتے ہوئے بیلجیئم کے مداحوں سے خوشی خوشی ہاتھ ملائے۔ انہوں نے کہا، "ٹور ڈی فرانس کا مرحلہ جیتنا ہر سائیکلسٹ کا خواب ہوتا ہے، اور آج میرا خواب پورا ہو گیا۔”

پوگاچار نے کہا، "یہ جیت مجھے ایسے خوش کر گئی جیسے میں نے خود مرحلہ جیتا ہو، ویلنز ہر دن میری مدد کرتا ہے۔” انہوں نے اپنی پیلی جرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

ویلنز اس جیت کے ساتھ سائیکلنگ کے تینوں بڑے ٹورز — ٹور ڈی فرانس، جِیرو ڈی اٹالیا، اور ویلٹا اسپین — میں مرحلے جیتنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

ابتدائی حادثہ اور الجھن کا شکار الا فیلپ

184 میں سے 167 رائیڈرز نے کارکاسون کی طرف پیش قدمی کی، لیکن ابتدا ہی میں ایک بڑے حادثے نے مقابلے کو ہلا کر رکھ دیا۔ فلورین لپووٹز اور ونگیگارڈ بھی حادثے کا شکار ہوئے، جب کہ پوگاچار کا گروپ آگے بڑھ گیا اور ونگیگارڈ سمیت 30 رائیڈرز کو پیچھے رہنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

فرانسیسی رائیڈر جولین الا فیلپ اُس وقت خفت کا شکار ہوئے جب انہوں نے فنش لائن پر فتح کا جشن منایا، حالانکہ وہ تیسرے نمبر پر آئے تھے۔ دراصل وہ اپنے ریس ریڈیو سے محروم ہو چکے تھے اور انہیں علم نہیں تھا کہ ویلنز اور وکٹر کمپینارٹس پہلے ہی لائن عبور کر چکے ہیں۔

پوگاچار کی بیماری اور آئندہ چیلنج

پوگاچار نے پیری نیز کے پہاڑوں میں داخل ہوتے وقت بن ہیلی سے پیچھے تھے لیکن دو مرحلے جیت کر چار منٹ کی مجموعی سبقت حاصل کر لی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ بیمار رہے ہیں۔ "آدھا پیلوٹون کھانس رہا ہے، اور میری ناک بھی سرخ ہے، شاید یہ آئس پیک اور ایئر کنڈیشننگ کی وجہ سے ہو، لیکن اب میں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔”

پیر کو ٹور ڈی فرانس کا آخری آرام کا دن ہوگا، جس کے بعد منگل کو مرحلہ 16 میں 15.8 کلومیٹر طویل مونٹ وونٹو کی چڑھائی ہوگی، جس کا اوسط زاویہ 7.9 فیصد اور بلند ترین نقطہ 1901 میٹر ہے۔

پوگاچار نے کہا، "مونٹ وونٹو کے بارے میں ابھی بات نہیں کرنا چاہتا، بس اتنا جانتا ہوں کہ ونگیگارڈ حملہ کرے گا، اور میں فی الحال اس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button