
خلیج اردو
ابوظبہی:متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر ممنوعہ مواد شیئر کرنے پر ایک ملین درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وکلاء کے مطابق، ایسے افراد جو سوشل میڈیا پر ملک کی رواداری اور بقائے باہمی کی پالیسی کے خلاف غیر اخلاقی یا سماجی طور پر ناپسندیدہ مواد پوسٹ یا شیئر کرتے ہیں، انہیں سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق، جو شخص ممنوعہ مواد شیئر، ری پوسٹ یا تقسیم کرتا ہے، اسے اصل پوسٹ کرنے والے کے برابر ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک ہزار سے لے کر دس لاکھ درہم تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر یہ رقم دوگنی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، میڈیا اداروں کو چھ ماہ تک عارضی طور پر بند کرنے یا بغیر لائسنس کے اداروں کو مستقل طور پر بند کرنے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
التمیمی اینڈ کمپنی کی فاطمہ الزدجالی کے مطابق، اگر خلاف ورزی کرنے والا خود مواد کو ہٹانے میں ناکام رہے تو اسے اس عمل کے اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر بدنامی (ڈیفیمیشن) کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے الزامات لگاتا ہے یا افواہیں پھیلاتا ہے تو اسے دو سال تک قید یا 20,000 درہم تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر بیان سچ بھی ہو لیکن وہ کسی شخص کو معاشرتی طور پر شرمندگی یا نقصان پہنچائے تو اسے بھی بدنامی کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کی ذاتی معلومات شیئر کرنا، نجی گفتگو ریکارڈ کرنا یا بغیر اجازت کسی کی تصاویر لینا جرم ہے، جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
وہ مواد جو شیئر نہیں کیا جا سکتا:
– ملکی علامات، قومی قیادت یا اداروں کی بے حرمتی
– ریاست کی اندرونی یا بیرونی پالیسی کے خلاف مواد
– فرقہ واریت یا سماجی اختلافات کو ہوا دینے والا مواد
– قومی کرنسی یا معاشی صورتحال کو نقصان پہنچانے والا مواد
– افواہیں یا جھوٹی خبریں پھیلانا
– قومی پرچم، قومی ترانے یا کسی بھی قومی علامت کی بے حرمتی
متحدہ عرب امارات کی حکومت قومی شناخت اور علامتوں کے احترام پر بہت زور دیتی ہے اور ان کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔







