
خلیج اردو
دبئیۛ متحدہ عرب امارات وہ ملک ہے جہاں پر مزدوروں کی فلاح مقدم ہے۔ اس کا خیال ہر ایک چیز سے زیادہ رکھا جاتا ہے اور یقینی بنایا جاتا ہے کہ کام کیلءے ایک خوشگوار ماحول دینے کے ساتھ ساتھ مزدوں کے حقوق یقینی بنائے جائیں۔
حال ہی میں وزارت انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن نے کمپنیوں کو یاددہانی کرائی ہے کہ وہ بروقت ملازمین کی تنخواہیں ادا کریں۔ بتایا گیا ہے کہ تنخواہیں ویج پروٹیکشن سسٹم یعنی وی پی ایس کی مدد سے ادا کی جانی چاہیئے۔
وی پی ایس کو 2009 میں نافذ کیا گیا تھا اور یہ ایک الیکٹرانک طریقہ کار ہے جس میں ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کی جاتی ہے۔
اس نظام کے تحت ملازمین کی تنخواہیں ان کے اکاؤنٹس میں بنک یا مالیاتی ادارے سے ٹرانسفر ہونگی جو مرکزی بنک سے رجسٹرڈ ہوں۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی ویب سائیٹ کے مطابق اگر کمپنیان بروقت تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کرتی تو انہیں جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اجرت دس دنوں میں ادا نہ کی جاءے تو تنخواہ کو تاخیر یعنی لیٹ تصور کیا جائے گا۔
وی پی ایس فراڈ ۔
اگر کسی بھی طرح سے فراڈ کی کوشش کی گئی اور وی پی ایس میں غلط معلومات کا اندراج کیا گیا تو فی ملازمین 5000 درہم کا جرمانہ ہوگا جس میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ 50 ہزار درہم تک بھی ہو سکتا ہے۔
اگر آجر تنخواہ کو مقررہ تاریخ سے تاخیر میں ادا کرے تو فی ملازم 1000 درہم ادا کیے جائیں گے۔
اگر آجر کسی ملازم کو مجبور کرے کہ وہ جعلی دستخط کرے کہ انہوں نے تنخواہ وصول کی ہے اورتو اس جعل سازی پر فی ملازم 5 ہزار درہم کا جرمانہ ہوگا۔
اگر 100 ملازمین یا اس سے زیادہ والی کمپنی تنخواہوں میں تاخیر کرے تو کیا کرنا چاہیئے۔
اگر تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر 60 دنوں تک ہو تو فی ملازم 5 ہزار درہم ادا کرنا ہوگی۔ اس میں زیادہ سے زیادہ 50 ہزار درہم کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
تنخواہ میں تاخیر کی وجہ سے جب 16 دن گزرے تو انہیں ورک پرمٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
جو کمپنی ایک مہینے سے زیادہ میں تاخیرکریں ت ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس کے بعد مذکورہ آجر کی تمام کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔
آجر کو کسی بھی طرح کے نئی کمپنیوں کو رجسٹرڈ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
آجر کی بنک میں رکھی گئی زرضمانت کو ضبط کیا جائے گا۔
اس کمپنی کو تھرڈ کیٹگری میں شامل کیا جائے گا۔
کمپنی کے ملازمین کو اجازت ہوگی کہ وہ دوسری کمپنی میں جا سکیں۔
اگر 100 سے کم ملازمین والے کمپنی نے تنخواہ ادا نہیں کی یا اس میں تاخیر کی تو کیا ہوگا؟
اگر ایک سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ کمپنی خلاف ورزی کرے اور اس میں ملازمین کی تعداد سو سے کم ہیں تو موہری اس کمپنی کیلئے وہ جرمانہ جاری کرے گی جو 100 سے زیادہ ملازمین والی کمپنی کیلئے ہو۔
کمپنی کے ورک پرمٹ کو ضبط کیا جائے گا۔
کمپنی کو جرمانہ کیا جائے گا۔
کمپنی کا کیس عدالت لے جایا جائے گا۔
Source : Khaleej Times







