
خلیج اردو
دبہ الحصن کے 75 سالہ سعید بچپن ہی سے ماہی گیری سے وابستہ ہیں۔ وہ پانچ برس کی عمر میں اپنے دادا کے ساتھ پہلی بار سمندر گئے تھے۔ سعید کہتے ہیں کہ جب ان کے دادا نے پہلی مرتبہ انہیں مچھلی پکڑنے کو کہا تو وہ ہاتھ سے پھسل کر دوبارہ سمندر میں چلی گئی، اس وقت وہ معصوم بچے تھے اور کچھ سمجھ نہیں پائے۔
سعید کے مطابق ان کا خاندان نسل در نسل سمندر پر انحصار کرتا آیا ہے۔ مچھلی صرف خوراک نہیں تھی بلکہ تجارت اور بقا کا ذریعہ بھی تھی۔
بجلی اور ریفریجریشن سے پہلے کا زمانہ سخت تھا۔ سردیاں مچھلی کے شکار کے لیے بہترین سمجھی جاتی تھیں، جبکہ گرمیوں میں زندگی مشکل ہوجاتی تھی۔ اسی لیے خاندان سردیوں میں بڑی مقدار میں مچھلی پکڑ کر محفوظ کرتے اور گرمیوں میں اسے کھاتے۔ بقا کا حل "مالح” یعنی نمکین مچھلی تھی جو کئی ماہ تک محفوظ رہتی تھی۔
مچھلی صاف کرکے، نمک لگا کر لکڑی کے بیرلوں میں تہہ در تہہ رکھی جاتی تھی۔ نمک پانی جذب کرکے مچھلی کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھتا۔ آج کل لکڑی کے بجائے پلاسٹک کے ڈبوں میں اسے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ ماضی میں گھرانوں میں بڑی مقدار میں مالح تیار کی جاتی اور منڈیوں میں فروخت ہوتی تھی، لیکن اب یہ زیادہ تر آرڈر پر تیار کی جاتی ہے۔
ساحلی خاندانوں کے لیے مالح صرف کھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ تجارت اور لین دین کی کرنسی بھی تھی۔ لوگ نمکین مچھلی کے بدلے چاول، نمک، کھجوریں، کپڑے اور دیگر اشیاء حاصل کرتے۔ یوں یہ سادہ سی چیز اندرون ملک کے کسانوں اور ساحلی ماہی گیروں کو آپس میں جوڑتی تھی۔
سعید آج بھی یہ روایت زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بچے بھی مالح بنانے کا طریقہ جانتے ہیں۔ سعید نے متعدد ثقافتی میلوں میں حصہ لیا ہے، جن میں مالح فیسٹیول بھی شامل ہے جو صدیوں پرانی اس روایت کو زندہ رکھتا ہے۔ سعید کہتے ہیں کہ "نمکین مچھلی صرف کھانا نہیں، بلکہ ہماری تاریخ، بقا اور شناخت ہے۔ ایک لقمہ کھاتے ہی مجھے اپنے بچپن کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔”
ان کے بقول مالح آج بھی ماضی کو زندہ کر دیتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر کس طرح کبھی ان کے خاندان کے لیے باورچی خانہ بھی تھا اور منڈی بھی۔







