
خلیج اردو
ابوظہبی کورٹ آف کیسیشن نے ایک اہم فیصلے میں ایک خاتون ملازمہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کے سابق آجر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسے 4 لاکھ 34 ہزار 884 درہم ادا کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملازمہ کو ملازمت کی پوری مدت کے دوران نہ لی جانے والی تمام چھٹیوں کا معاوضہ ملے گا۔
ملازمہ نے 4 جنوری 2018 سے 30 جون 2024 تک ملازمت کی، جس میں اس کی بنیادی تنخواہ 36 ہزار درہم اور منافع کی شراکت سمیت کل تنخواہ 60 ہزار درہم تھی۔ ملازمت ختم ہونے پر اس نے بقایا جات کے لیے مقدمہ دائر کیا، جن میں بقایا تنخواہ، چھٹیوں کا الاؤنس، نوٹس پیریڈ کی تنخواہ، اختتامی خدمت کے واجبات، کمیشن اور تاخیر سے ادائیگی پر سود شامل تھا۔
ابتدائی عدالت نے جنوری 2024 میں آجر کو 3 لاکھ 23 ہزار 400 درہم ادا کرنے کا حکم دیا، تاہم یہ رقم صرف دو سال کی چھٹیوں اور دیگر واجبات پر مشتمل تھی۔ ملازمہ نے اپیل دائر کی جس کے بعد رقم بڑھا کر 3 لاکھ 79 ہزار 400 درہم کر دی گئی۔
بعد ازاں ملازمہ نے کیس کیسیشن کورٹ میں لے گئی اور مؤقف اختیار کیا کہ اسے چھ سال سے زائد ملازمت کی مدت کی پوری چھٹیوں کا الاؤنس ملنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی لیبر لا نمبر 33/2021 کے تحت کوئی بھی ملازم ملازمت چھوڑنے پر اپنی تمام غیر استعمال شدہ چھٹیوں کا معاوضہ حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔
عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے آجر کو 4 لاکھ 34 ہزار 884 درہم ادا کرنے کا حکم دیا، جس میں بقایا تنخواہ، مکمل چھٹیوں کا الاؤنس اور سروس کے اختتامی واجبات شامل ہیں۔ ساتھ ہی آجر کو عدالتی اخراجات اور وکیل کی فیس بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ملازمین اپنی پوری ملازمت کی مدت کے دوران غیر استعمال شدہ چھٹیوں کا مکمل مالی حق رکھتے ہیں۔







