
خلیج اردو
ابوظہبی: سوشل میڈیا پر ایک خاتون کو توہین آمیز الفاظ کہنے والی خاتون کو 30 ہزار درہم ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ابوظہبی فیملی، سول اور ایڈمنسٹریٹو کلیمز کورٹ نے جاری کیا، جیسا کہ امارات الیوم نے رپورٹ کیا ہے۔ عدالت نے مدعا علیہ پر مقدمے کے تمام اخراجات اور قانونی فیس بھی عائد کر دی۔
مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب متاثرہ خاتون نے دعویٰ دائر کیا کہ مدعا علیہ نے اس کی تصاویر پر توہین آمیز تبصرے کیے اور سوشل نیٹ ورکنگ ایپ کے ذریعے نجی پیغامات میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس واقعے پر ایک علیحدہ فوجداری مقدمہ بھی درج ہوا، جس میں مدعا علیہ کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔
مدعیہ نے عدالت کو بتایا کہ مدعا علیہ کے رویے سے اسے شدید ذہنی اور جذباتی اذیت پہنچی، اور اس نے 1 لاکھ 50 ہزار درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا، جس میں اخلاقی اور مالی دونوں نوعیت کے نقصانات شامل تھے، ساتھ ہی عدالت سے وکیل کی فیس اور مقدمے کے اخراجات کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حقائق کا جائزہ لینا، شواہد کا تجزیہ کرنا، اور کسی غلط فعل کے وجود کا تعین کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، بشرطیکہ نتائج معقول ہوں اور مقدمے کے ریکارڈ پر مبنی ہوں۔ عدالت نے کہا کہ فوجداری مقدمے کی فائل سے ثابت ہوا ہے کہ مدعا علیہ نے الیکٹرانک ذرائع سے توہین آمیز زبان استعمال کی۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اخلاقی نقصان میں عزت، جذبات، شہرت یا وقار کو پہنچنے والا نقصان شامل ہوتا ہے، اور متحدہ عرب امارات کے سول ٹرانزیکشنز قانون کے مطابق “جو شخص کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے، اسے اس نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا”۔
ان تمام شواہد کی روشنی میں عدالت نے مدعیہ کو 30 ہزار درہم ہرجانے کی رقم بطور اخلاقی نقصان منظور کی، تاہم مالی نقصان کا مطالبہ مسترد کر دیا کیونکہ مدعیہ نے مالی نقصان کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔







