خلیج اردو آن لائن:
راس الخیمہ کی ایک سول کورٹ نے ایک عرب خاتون کو اپنے شوہر کی کے فون کی جاسوسی کرنے کے الزام میں جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ شوہر کے فون کی جاسوسی کر کے، اس کی تصویریں اور ریکارڈنگ چوری کر کے اور پھر ان تصویروں اور ریکارڈنگ کو شوہر کی ساکھ خراب کرنے کے لیے اس کے خاندان کے ساتھ شیئر کر کے خاتون نے شوہر کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی ہے۔
امارات الیوم کے مطابق بیوی کی جانب سے شوہر کی تصویریں چوری کرنے اور پھر انہیں اسکی فیملی کو بھیجنے کے واقعہ کے بعد شوہر نے اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ جس میں اس نے اپنے نقصان کی بھرپائی کے لیے خاتون نے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔
شوہر نے مطالبہ کیا تھا کہ اس مقدمے کی پیروی کے دوران کام سے غیر حاضر رہنے کی وجہ سے اس تنخواہ رک گئی ہے۔ اور اس نے مزید لکھا کہ اس مقدمے کی وجہ سے اسے نفسیاتی نقصان بھی ہو اہے۔
جبکہ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شوہر نے اس کی موکل کے ساتھ بدسلوکی اور اسے انکے گھر سے بھی نکال دیا اور خاتون کو اسکو بیوی کو بے سہارا چھوڑ دیا۔
تاہم، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہےکہ ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون نے شوہر کی پرائویسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شوہری کی تصویریں اور ریکارڈنگ اس کی فیملی کو بھیجی ہیں۔ اور ثبوتوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شوہر کے اخراجات ہوئے ہیں اس لیے وہ مالی معاؤضے کا حقدار قرار پاتا ہے۔
لیکن عدالت نے شوہر کی یہ استدعا رد کر دی جس میں اس نے اس کیس کی وجہ سے اپنی تنخواہ کھو دینے کا موقف اختیار کیا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے خاتون حکم دیا کہ وہ لیگل فیس اور اخراجات کے علاوہ 5431 درہم اپنے شوہر کو بطور ہرجانے کے ادا کرے گی۔
Source: Khaleej Times







