
خلیج اردو
یو اے ای حکومت اور نجی شعبہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی 50 فیصد خدمات کو خودکار بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے، جسے ماہرین ایک بڑی ڈیجیٹل تبدیلی قرار دے رہے ہیں
یو اے ای کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کو دنیا کا پہلا ایسا نظام بنایا جائے گا جہاں حکومتی خدمات کا 50 فیصد حصہ “ایجنٹک اے آئی” کے ذریعے چلایا جائے گا۔
یہ اقدام نہ صرف سرکاری شعبے بلکہ نجی کمپنیوں کو بھی متاثر کرے گا، جہاں ملازمین کو اے آئی ٹریننگ دی جائے گی اور کمپنیوں کے روزمرہ کاموں میں اس ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے گا۔
ایجنٹک اے آئی دراصل ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو صرف ہدایات لینے کے بجائے خود فیصلے کر سکتی ہے اور دیے گئے ہدف کو مکمل کرنے کے لیے خودکار اقدامات کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام بار بار ہونے والے اور ڈیٹا سے متعلق کاموں جیسے رپورٹس بنانا، نگرانی کرنا اور غیر معمولی سرگرمیوں کی نشاندہی میں بہت مؤثر ہوگا۔
اگرچہ اے آئی خود فیصلے کرے گا، تاہم حتمی کنٹرول اور قواعد انسانوں کے پاس ہی رہیں گے تاکہ نظام کو محفوظ اور ذمہ دار بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ ٹیکنالوجی ملازمین کا بوجھ کم کرے گی، لیکن وقت کے ساتھ کچھ روایتی ملازمتوں کی نوعیت بدل سکتی ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق انتہائی سادہ اور بار بار کیے جانے والے کام مستقبل میں مکمل طور پر خودکار ہو سکتے ہیں، جس سے روزگار کے انداز میں بڑی تبدیلی آئے گی۔
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مثالیں پہلے ہی نظر آ رہی ہیں، جیسے کال سینٹرز میں خودکار نظام جو کالز کو ریکارڈ، تجزیہ اور کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے اور آنے والے سالوں میں ایجنٹک اے آئی مختلف شعبوں میں زیادہ خودمختار کردار ادا کرے گا۔







