
خلیج اردو
ابوظہبی: 28 مئی
کبھی خون سے خوف کھانے والی مریم علی الزعابی آج متحدہ عرب امارات کی پہلی خاتون کریٹیکل کیئر پیرا میڈک بن چکی ہیں۔ 18 برس سے لوگوں کی زندگیاں بچانے میں مصروف مریم اب نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو سینٹر (NSRC) میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ اسپتال پہنچنے سے قبل مریضوں پر انتہائی اہم طبی اقدامات کرتی ہیں۔
مریم نے بتایا کہ اُن کا اصل خواب انجینئر بننا تھا، لیکن والد کے مشورے نے اُن کی زندگی بدل دی۔ "میرے والد نے محسوس کیا کہ پیرا میڈیکل کے شعبے میں مہارت کی شدید کمی ہے۔ جب انہوں نے مجھے کورس کے بارے میں بتایا، تو میں نے شوق سے داخلہ لیا،” مریم نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا۔
یادگار اور کٹھن تجربات
مریم کا کیریئر ایسے لمحات سے بھرا ہے جنہیں وہ کبھی بھلا نہیں سکیں۔ "میرے پہلے دن ہی مجھے ایک شدید زخمی مریض کی مدد کرنی پڑی۔ کئی بار ایسے مقامات پر گئی جہاں جسمانی اعضا کو جمع کرنا پڑا۔ ایک بار بیرون ملک ایک ریسکیو مشن میں ایک دن میں 10 بچوں کی ڈلیوری کرنی پڑی۔ لیکن جب میں ایک جان بچاتی ہوں، تو وہ خوشی ہر تکلیف کو بھلا دیتی ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ وہ سمندر، پہاڑ، گھروں سمیت ہر جگہ پہنچی ہیں جہاں جان خطرے میں ہو۔ "لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں میں نے کتنی زندگیاں بچائیں، لیکن میں کبھی گنتی نہیں کرتی۔ میرے لیے صرف یہ اہم ہے کہ میرا کام اثر رکھتا ہے۔”
ذاتی وابستگی
ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مریم نے بتایا کہ ایک 12 سالہ اماراتی لڑکی کو کار حادثے میں شدید چوٹیں آئیں۔ "میری اپنی بیٹی 11 سال کی ہے، اس لیے اس بچی کو لے جاتے ہوئے میں اندر سے ٹوٹ گئی۔ پورا دن روتی رہی،” انہوں نے کہا۔
ایک اور موقع پر انہوں نے بتایا کہ دل کا دورہ پڑنے والے مریض کو 5 منٹ کے اندر طبی امداد ملی اور اس کی جان بچ گئی۔ "اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ ہر کسی کو فرسٹ ایڈ سیکھنی چاہیے، یہ شرحِ بقا کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔”
خواب سے حقیقت تک
مریم نے ابوظہبی کی ایچ سی ٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا میں دو سالہ کریٹیکل کیئر پیرا میڈکس کورس مکمل کیا، جہاں وہ اس شعبے میں مہارت حاصل کرنے والی پہلی اماراتی بنیں۔ اب وہ انتہائی حساس طبی طریقے جیسے کہ ایئر وے کھولنا، چیسٹ ڈیکمپریشن، اور ریسیسیٹیشن جیسے اقدامات سرانجام دیتی ہیں تاکہ مریض کو زندہ اسپتال تک پہنچایا جا سکے۔
بین الاقوامی سطح پر اعتراف
مریم Cospas-Sarsat بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کر رہی تھیں، جو پہلی بار متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوئی۔ یہ ادارہ سیٹلائٹ کے ذریعے ایمرجنسی سگنلز کو دنیا بھر کے ریسکیو اداروں تک پہنچاتا ہے، جس پر یو اے ای میں NSRC عمل درآمد کرتا ہے۔







