متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں زیتون سے بنی پہلی کافی، ماں بیٹی کی مشترکہ کاوش

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات کے کیفے اور ویلنیس سیکٹر میں ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے — عربی اور ترکی کافی جو مکمل طور پر زیتون سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی زیتون پر مبنی کافی ہے، جسے اماراتی ماں اور بیٹی، نادیہ المنصوری اور ہدیٰ عبدالعزیز نے متعارف کرایا۔ دونوں نے یہ خیال اتفاقاً دریافت کیا اور اسے متحدہ عرب امارات لانے کا فیصلہ کیا۔

یہ منفرد کافی مختلف ذائقوں میں دستیاب ہے جن میں ہیزل نٹ، لوبان (لبان) اور کریک اسٹائل ورائٹیز شامل ہیں۔ ابتدا میں اسے ایک سوشل میڈیا تجربے اور کمیونٹی ایونٹس میں پاپ اپ اسٹال کے طور پر متعارف کرایا گیا، مگر اب یہ صحت کے شعور رکھنے والے صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

ہدیٰ، جو "ہسٹری کافی” کی بانی ہیں، کہتی ہیں کہ "ہم 2021 سے یو اے ای میں ہیں، ہم نے ایک صحت مند کافی متعارف کرانے کا سوچا۔ لوگوں نے اسے بہت سراہا کیونکہ یہ نیا اور منفرد تھا۔ جب انہوں نے اسے چکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس کا ذائقہ بہت عمدہ ہے۔”

اس تصور کے پیچھے ترکی-یمنی کمپنی "فرسٹ پاشا کافی” کے سی ای او ڈاکٹر ولید الازرق ہیں، جنہوں نے زیتون پاؤڈر کافی کا پیٹنٹ حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ خیال اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے عالمی سطح پر صحت مند اور قدرتی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو محسوس کیا۔ ڈاکٹر الازرق نے کہا، "زیتون ایک بابرکت درخت ہے جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے، یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔ ہم نے سوچا کہ زیتون کی روح کو عربی کافی کی سخاوت کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا امتزاج بنایا جائے جو صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی اقدار کا عکاس بھی ہو۔”

انہوں نے بتایا کہ یہ خیال ترکی میں ایک زرعی نمائش کے دوران سامنے آیا جہاں ایک پروفیسر نے جڑی بوٹیوں پر مبنی مصنوعات میں زیتون کے خشک پاؤڈر کو پیش کیا۔ "ہم نے اس کی خصوصیات دیکھ کر تجربات شروع کیے، اور آخرکار ایک ایسا توازن پیدا کیا جس میں عربی کافی کا ذائقہ اور زیتون کے غذائی فوائد برقرار رہے۔”

ڈاکٹر الازرق کے مطابق سب سے بڑا چیلنج کافی اور زیتون کے ذائقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا تاکہ دونوں میں سے کوئی بھی ذائقہ دوسرے پر غالب نہ آئے۔ کئی تجربات اور سرکاری منظوریوں کے بعد ترکی میں اس پروڈکٹ کو باضابطہ تسلیم کیا گیا۔

ہدیٰ اور ان کی والدہ نادیہ نے 2019 میں "فرسٹ پاشا کافی” دریافت کی۔ ہدیٰ کہتی ہیں، "میں کافی کی شوقین تھی، مگر میری والدہ کافی نہیں پیتی تھیں کیونکہ انہیں دل کی دھڑکن تیز ہونے اور تھکن کی شکایت ہوتی تھی۔ لیکن زیتون والی کافی پینے کے بعد انہیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی، تب ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ پروڈکٹ متحدہ عرب امارات میں لوگوں کے لیے بہترین رہے گی۔”

آج "ہسٹری کافی” ابوظبی کے بڑے عوامی میلوں جیسے ADIHEX میں نمایاں برانڈ بن چکا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی مقبول ہے۔ برانڈ نے اپنی ترکی کافی کی 4 اقسام سے بڑھ کر 8 فلیورز تک توسیع کر لی ہے، اور دو سال قبل عربی بلونڈ کافی بھی متعارف کرائی۔ ہدیٰ کے مطابق عوامی مطالبے پر لبان اور کریک طرز کی اماراتی کافی بھی شامل کی گئی۔

زیتون کافی کے دعوے کردہ فوائد میں مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا، دل اور خلیاتی جھلیوں کی حفاظت، کیفین کے مضر اثرات میں کمی اور دماغی صحت میں بہتری شامل ہے۔

ڈاکٹر الازرق کے مطابق ان کا مقصد قدیم عرب ورثے کے اجزاء کو جدید سائنسی طریقوں سے دوبارہ متعارف کرانا ہے تاکہ ایک ایسی پروڈکٹ پیش کی جا سکے جو صحت بخش ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی طور پر بھی مستند ہو۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button