
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے نئے اعلان کے بعد جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ نئے مرحلے میں ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ نمایاں ہوگا جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں بھی ختم ہوں گی۔
انور قرقاش نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی عرب ریاستوں کے خلاف جارحیت اپنے ہدف میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق یہ تہران کی ایک سنگین تزویراتی غلطی تھی جس کے نتیجے میں ایران مزید تنہائی کا شکار اور اس کی پوزیشن کمزور ہوئی۔
انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے خلیجی ریاستوں سے رابطہ کرے۔ انور قرقاش کے مطابق جنگ سے نکلنے کا راستہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے سے نہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے سے نکلتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر ایران سے خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے حملے مکمل طور پر روکنے اور فوری طور پر تمام دشمنانہ کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امارات نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کی حمایت بھی کی ہے تاکہ علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت و معیشت کا استحکام برقرار رکھا جاسکے۔
ادھر امریکا نے ایران پر پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری شعبوں کو بھی پابندیوں میں شامل کردیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ان ممالک کو بھی سنگین نتائج سے خبردار کیا جو امریکی مہم میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایرانی وزیر اقتصادی امور علی مدنی زادہ نے امریکی اقدامات کو ایک اور شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران طویل عرصے سے ان اقدامات کا انتظار کر رہا تھا اور حکومت نے ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔







