متحدہ عرب امارات

یو اے ای فری زونز میں ’بینیفیشل ریسپیئنٹ رول‘: کمپنیوں کے لیے 0 فیصد کارپوریٹ ٹیکس حاصل کرنے کی شرائط اور طریقہ کار

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے کارپوریٹ ٹیکس قوانین کے تحت فری زون کمپنیوں اور ان کی برانچز کو مخصوص سرگرمیوں اور لین دین پر 0 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کی سہولت حاصل ہے، بشرطیکہ وہ کچھ شرائط پوری کریں۔ یہ رعایت صرف اس وقت لاگو ہوتی ہے جب فری زون اداروں کے درمیان ہونے والے لین دین میں کوئی Excluded Activity شامل نہ ہو اور سامان یا خدمات حاصل کرنے والا ادارہ بینیفیشل ریسپیئنٹ (Beneficial Recipient) قرار پائے۔

بینیفیشل ریسپیئنٹ کون ہے؟

اگر کوئی ادارہ صرف بطور ایجنٹ، کنڈوئٹ یا درمیانی واسطہ کام کرتا ہے تو اصل بینیفیشل ریسپیئنٹ وہ تیسری پارٹی ہوگی جسے اصل فائدہ پہنچ رہا ہے۔

عملی مثال

  • کمپنی C (ایک فری زون لیگل سروسز فرم) کمپنی M (نان فری زون ادارہ) کو قانونی مشاورت دینا چاہتی ہے، مگر اسے مینڈارن زبان میں ترجمے کی ضرورت ہے۔

  • کمپنی C ترجمہ حاصل کرنے کے لیے کمپنی D (دوسرا فری زون ادارہ) کی خدمات لیتی ہے۔

  • ترجمہ آخرکار کمپنی M کو فائدہ پہنچاتا ہے، مگر قانونی رائے دینے کے لیے کمپنی C ہی اصل میں ان خدمات کو استعمال کر رہی ہے۔

  • اس صورت میں کمپنی D کے لیے آمدنی 0 فیصد ٹیکس کے لیے کوالیفائی کرے گی کیونکہ اس کا بینیفیشل ریسپیئنٹ کمپنی C ہے۔

  • تاہم کمپنی C کی کمپنی M سے حاصل ہونے والی آمدنی نان کوالیفائنگ تصور ہوگی، کیونکہ وہ نان فری زون ادارے کو نان کوالیفائنگ سرگرمی فراہم کر رہی ہے۔

فری زون کمپنیوں کے لیے تین بنیادی شرائط

  1. سامان یا خدمات استعمال کرنے اور فائدہ اٹھانے کا حقیقی حق ہو۔

  2. کسی تیسرے شخص کو آگے فراہم کرنے کی قانونی/معاہداتی پابندی نہ ہو۔

  3. سامان یا خدمات صرف فری زون کمپنی کے اپنے آپریشنز کے لیے استعمال ہوں، نہ کہ FPE یا DPE کے لیے۔

کاروباری نتائج

یہ اصول یقینی بناتا ہے کہ 0 فیصد کارپوریٹ ٹیکس صرف ان صورتوں میں لاگو ہو جب فری زون ادارے اپنی سرگرمیوں کے لیے حقیقی طور پر سامان یا خدمات استعمال کر رہے ہوں۔ اس طرح فری زون میں کام کرنے والی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیکس پوزیشن بہتر بنانے کے لیے حقیقی آپریشنل کنٹرول، براہِ راست کنٹریکٹس اور واضح اقتصادی مقصد ثابت کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button