متحدہ عرب امارات

امارات میں ثقافتی ورثہ نقصان پہنچانے پر ایک کروڑ درہم جرمانہ اور قید، نیا قانون منظور

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل (ایف این سی) نے ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق نئے وفاقی مسودۂ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت قومی ورثے یا نوادرات کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے، چوری کرنے یا اسمگل کرنے والوں کو ایک کروڑ درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکے گی۔

ابوظہبی میں اسپیکر صقر غباش کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں منظور کیے گئے قانون کا مقصد امارات کے مادی، غیر مادی، قدرتی اور ڈیجیٹل ثقافتی ورثے کا تحفظ، دستاویز بندی، فروغ اور آئندہ نسلوں تک منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔

قانون کے مطابق ڈیجیٹل ورثے اور آثارِ قدیمہ کے سروے کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہوگا، جبکہ 1700 سے 1960 کے درمیان تعمیر ہونے والی تاریخی عمارتیں تاریخی تعمیراتی ورثہ شمار ہوں گی۔ 1960 کے بعد تعمیر ہونے والی ثقافتی اہمیت کی حامل عمارتیں جدید تعمیراتی ورثے میں شامل ہوں گی۔ ملک کی سمندری حدود میں موجود زیرِ آب آثار، ڈوبے ہوئے جہاز اور طیارے بھی اس قانون کے تحت محفوظ ہوں گے۔

قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو اتفاقاً کوئی نوادرات یا ثقافتی ورثہ دریافت ہو تو وہ اسے ہاتھ لگانے کے بجائے 48 گھنٹوں کے اندر متعلقہ اتھارٹی، وزارتِ ثقافت یا قریبی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دینے کا پابند ہوگا۔ بروقت اطلاع دینے والے افراد کو انعام بھی دیا جا سکتا ہے۔

قانون کے تحت قومی ورثے کو مسمار کرنے، نقصان پہنچانے، چوری کرنے، غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے، اجازت کے بغیر ورثہ مقامات پر تعمیرات کرنے یا نوادرات اسمگل کرنے پر پانچ لاکھ سے ایک کروڑ درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اگر جرم ورثے کے مالک کی جانب سے کیا جائے تو اسے مزید سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔

غیر قانونی کھدائی، جعلی نوادرات تیار کرنے، جھوٹے دستاویزات کے ذریعے نوادرات کی منتقلی، ورثے کی توہین یا آثارِ قدیمہ کے مقامات کو کچرا پھینکنے کے لیے استعمال کرنے پر دس سال تک قید اور تین لاکھ سے پچاس لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکے گا۔

اسی طرح ورثے کی اشیا کو بغیر اجازت منتقل کرنے، آثارِ قدیمہ سے نکالا گیا مواد فروخت کرنے، ورثہ مقامات پر اشتہارات لگانے، ورثے کی رجسٹریشن یا دیکھ بھال میں غفلت برتنے، سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے یا اجازت کے بغیر ثقافتی تقریبات منعقد کرنے پر بھی تین سال تک قید یا ایک لاکھ سے پچاس لاکھ درہم تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

قانون کے مطابق عدالت جرم میں استعمال ہونے والی اشیا، آلات اور برآمد شدہ نوادرات ضبط کرنے کا بھی حکم دے سکے گی، تاہم نیک نیتی سے کام کرنے والے تیسرے فریق کے حقوق محفوظ رہیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button