متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : نفرت انگیز مواد پر 200 ہزار درہم اورایک سال قید کی سزا ہوگی

خلیج اردو
20 دسمبر 2020
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات میں کسی بھی انسان کی عزت نفس کا خیال رکھنا بنیادی فرائض میں شامل ہے ۔ کسی شخص یا گروہ یا قومیت یا کسی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف توہین آمیز کلمات یا نفرت انگیز مواد کو قانون کے مطابق قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

متتحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن نے رہائشیوں کو یاد دلایا ہے کہ نسلی ، مذہبی اور ثقافتی منافرت کو ہوا دینے سے متعلق کسی بھی طرح کا مواد رکھنا یا پھیلانا قابل سزا جرم ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں عوامی استغاثہ نے امتیازی سلوک اور نفرت کا مقابلہ کرنے سے متعلق وفاقی قانون نمبر 2 کے 2015 کے آرٹیکل 12 کی دفعات کو تفصیل سے بیان کیا جس کے مطابق نفرت کو ہوا دینے والی دستاویزات ، اشاعت اور ریکارڈنگز کا پاس موجود ہونا یا اسے دوسروں میں تقسیم کرنے والوں کو ایک سال قید کی سزا اور 50،000 سے 200 ہزار درہم تک جرمانے کی سزا ہوگی۔

پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ دستاویزات ، اشاعتیں ، ریکارڈنگ ، فلمیں ، ٹیپ ، ڈسکس ، سوفٹویئر اور سمارٹ ایپلی کیشنز جو کسی مذہب ، قومیت یا نسلی یا گروہ کے جذبات کو مجروح کریں یا اس حوالے سے امتیازی سلوک پیدا کرے ،اس کا اپنے پاس رکھنا یا اس کی اشاعت کرنا قابل سزا ہے۔ اس حوالے سے قرار واقعی سزا کا اطلاق کسی بھی اس فرد پر ہوگا جو پرنٹنگ ، ریکارڈنگ ، اسٹوریج ، آواز یا ریکارڈنگ آلات یا اشاعت کے دیگر ذرائع سے نشریات یا تشہیراتی مواد کو حاصل کرتا ہے یا اس کے پاس موجود ہوتیں ہیں۔

پبلک پراسیکویشن کے مطابق امارات میں برداشت اور روادی کے کلچر کو فروغ دینا قومی مشن ہے اور اس کے برخلاف نسل پرستی یا کسی بھی حوالے سے امتیازی سلوک کو ہوا دینے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔

 

Source : Khaleej Times

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button