متحدہ عرب امارات

امریکا نے بھارتی بزنس ایگزیکٹوز اور ان کے اہل خانہ کے ویزے منسوخ اور مسترد کر دیے

خلیج اردو
دبئی: امریکا نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے کئی بھارتی بزنس ایگزیکٹوز اور کارپوریٹ رہنماؤں کے ویزے منسوخ اور مسترد کر دیے ہیں جن پر فینٹانل بنانے والے کیمیکلز (فینٹانل پری کرسرز) کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ اقدام ان ایگزیکٹوز کے قریبی اہل خانہ پر بھی لاگو ہوگا۔

امریکی سفارتخانے کے مطابق ویزہ منسوخی اور انکار امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعات 221(i)، 212(a)(2)(C)، اور 214(b) کے تحت کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ امریکا کے سفر کے لیے نااہل قرار پا سکتے ہیں۔

فینٹانل ایک طاقتور مصنوعی نشہ آور دوا ہے جو امریکا میں مہلک وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ معمولی مقدار بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے واشنگٹن نے اس کے بہاؤ کو روکنا اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

امریکی چارج دافئیرز جارجن اینڈریوز نے کہا کہ نشہ آور ادویات کی غیر قانونی پیداوار اور اسمگلنگ میں ملوث افراد اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے، جن میں امریکا میں داخلے پر پابندی بھی شامل ہے۔

نام ظاہر نہ کرتے ہوئے سفارتخانے نے تصدیق کی کہ وہ کمپنیاں اور ایگزیکٹوز جو پہلے ہی فینٹانل پری کرسرز کی اسمگلنگ میں نشاندہی ہو چکے ہیں، مستقبل میں ویزہ درخواستوں پر سخت جانچ پڑتال کا سامنا کریں گے۔

یہ اقدام اس سال دوسرا موقع ہے جب امریکا نے بھارتی شہریوں پر ویزہ پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سے قبل مئی میں بھارتی ٹریول ایجنسیوں کے مالکان اور عہدیداروں پر ویزہ پابندی لگائی گئی تھی جو مبینہ طور پر غیر قانونی امیگریشن میں سہولت فراہم کر رہے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف پہلے بھی بھارتی کمپنیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی کر چکا ہے۔ جنوری میں گجرات کی دو کمپنیاں اور ایک ایگزیکٹو پر امریکا اور میکسیکو میں فینٹانل کیمیکلز کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

امریکی سفارتخانے نے کہا کہ یہ ایک "مشترکہ سرحد پار خطرہ” ہے جس کے حل کے لیے بھارت اور امریکا دونوں کو قریبی تعاون جاری رکھنا ہوگا تاکہ دونوں عوام کو غیر قانونی منشیات کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

US revokes, denies visas of Indian executives, family members tied to fentanyl precursor trafficking

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button