
خلیج اردو
نئی دہلی: بھارتی صنعتکار مکیش امبانی کے صاحبزادے اننت امبانی کے وژن کے تحت وجود میں آنے والا "وانتارا” دنیا کا سب سے بڑا وائلڈ لائف ریسکیو، ری ہیبیلیٹیشن اور کنزرویشن پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اننت امبانی کے مطابق ’’میں جانوروں میں خدا کو دیکھتا ہوں اور وانتارا میرا مندر ہے‘‘۔ یہی فلسفہ اس منصوبے کی بنیاد ہے جو سائنس اور ہمدردی کو یکجا کرتا ہے۔
26 فروری 2024 کو لانچ اور 3 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے افتتاح کیا گیا یہ منصوبہ 3,500 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز اور ریلائنس فاؤنڈیشن کی معاونت سے یہ عالمی سطح پر جانوروں کی دیکھ بھال کے نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔
یہاں 25 ہزار سے زائد جانور، جو 2 ہزار سے زیادہ اقسام سے تعلق رکھتے ہیں، محفوظ ہیں۔ 22 ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال، 17 کلینکس اور ایشیا کا پہلا وائلڈ لائف اسپتال جدید سہولیات جیسے سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، کیموتھراپی، لیزر تھراپی اور روبوٹک سرجری سے لیس ہے۔ خصوصی آئی سی یوز میں رینگنے والے جانوروں، پرائمیٹس اور ہاتھیوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا ہاتھی اسپتال بھی یہیں قائم ہے۔
وانتارا صرف علاج کا مرکز نہیں بلکہ کنزرویشن بریڈنگ اور ری وائلڈنگ کا بھی عالمی مرکز ہے، جہاں 120 سے زیادہ خطرے سے دوچار اقسام کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ کامیابیوں میں برازیل میں اسپکس میکاو کے دوبارہ جنگل میں چھوڑنے اور بھارتی ریاست گجرات کے جنگلات میں ہرن کی واپسی شامل ہے۔
یہ منصوبہ صرف جانوروں ہی نہیں بلکہ ماحولیات اور مقامی برادریوں کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ مقامی کسانوں کو روزگار، نئی نسل کو تربیت اور تحقیقی اداروں کو جدید سائنس تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔ اننت امبانی کے مطابق: ’’وانتارا صرف جانوروں کو بچانے کا نہیں بلکہ ایکو سسٹمز کو شفا دینے اور آئندہ نسلوں کے لیے توازن بحال کرنے کا نام ہے۔‘‘
کچھ ہی عرصے میں وانتارا نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔







