متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں جینیاتی پروگرامز کا دائرہ وسیع، نومولود بچوں، بالغوں اور شادی سے قبل کے ٹیسٹ شامل

خلیج اردو
ابوظہبی: یو اے ای جینومکس کونسل نے ملک گیر جامع پری میرج جینیٹک اسکریننگ پروگرام کے اثرات اجاگر کیے ہیں، جو گزشتہ برس یکم جنوری کو وزارت صحت و تحفظ کے تحت ریگولیٹری اداروں اور اسٹریٹجک پارٹنرز کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 8 ہزار 987 جوڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں 570 جینز کے ذریعے 840 سے زائد جینیاتی امراض کی نشاندہی ممکن بنائی گئی۔ ممکنہ خطرات سامنے آنے پر جوڑوں کو ذاتی نوعیت کی جینیاتی کونسلنگ فراہم کی گئی تاکہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکیں۔

کونسل نے "یو اے ای جینوم ڈائیلاگ” کے نام سے ورکشاپس کے نئے سلسلے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ ہیلتھ ریگولیٹرز اور شراکت دار اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ دبئی ہیلتھ کی میزبانی میں محمد بن راشد یونیورسٹی آف میڈیسن اینڈ ہیلتھ سائنسز میں پہلی ورکشاپ میں پری میرج پروگرام کی کامیابیوں، چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی گئی۔

یو اے ای جینومکس کونسل نے پریسیژن میڈیسن، احتیاطی صحت اور طویل العمری کے فروغ کے لیے جینیاتی ڈیٹا کے بہتر استعمال کے عزم کو دہرایا۔ اس پروگرام کے تحت ایک ملین اماراتی شہریوں کے جینیاتی نمونے اکٹھے کر کے ہیلتھ کیئر کا جدید نظام تشکیل دینے کا ہدف مقرر ہے۔

اہم جینیاتی پروگرامز میں نومولود بچوں کے لیے جینیاتی اسکریننگ شامل ہے جو 733 جینز کے ذریعے 800 سے زائد بیماریوں کا ابتدائی پتہ لگانے میں مدد دے گی۔ بالغ افراد کے لیے اضافی ٹیسٹ، بانجھ پن سے متعلق پروگرامز، اور امراض قلب کی جینیاتی اسکریننگ بھی متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

کونسل کے مطابق یہ اقدامات نیشنل جینوم اسٹریٹجی کا حصہ ہیں جس کا مقصد صحت کے شعبے میں تبدیلی، احتیاطی دیکھ بھال کو فروغ اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہے۔ یو اے ای جینوم پروگرام اس اسٹریٹجی کا مرکزی منصوبہ ہے جو جینیاتی بیماریوں کی وجوہات سمجھنے، وراثتی خطرات کی پیش گوئی اور شہریوں کے لیے ذاتی نوعیت کے علاج فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button