
خلیج اردو
دبئی:اماراتی درہم کے مقابلے میں بھارتی روپیہ حالیہ مہینوں میں کمزور ہوا ہے، جس کے باعث بھارت سے درآمدات سستی ہو جائیں گی اور مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں اور ریٹیلرز کے مطابق، اس تبدیلی سے خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 15 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ بھارتی روپیہ اماراتی درہم کے مقابلے میں 24 کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ سال کے دوران روپیہ 22.5 سے گر کر تقریباً 24 فی درہم ہو گیا۔
عادل سپر مارکیٹ کے چیئرمین ڈاکٹر دھننجے داتار کے مطابق، "روپیہ کمزور ہونے کے باعث بھارتی اشیاء سستی ہو جائیں گی۔ توقع ہے کہ خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی آئے گی۔” عادل گروپ بھارت سے 10,000 سے زائد اشیاء درآمد کرتا ہے، جن میں خوراک اور غیر خوراکی مصنوعات شامل ہیں۔
بھارت، متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم آئندہ برسوں میں 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور امارات کے درمیان مال برداری کے اخراجات بھی کم ہوئے ہیں، کیونکہ شپنگ کنٹینرز کی بڑی تعداد دستیاب ہے۔
ایکس ٹی بی مینا کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار ہانی ابواغلہ کا کہنا ہے کہ اماراتی درہم کی مضبوطی عام طور پر درآمدات کو سستا بناتی ہے، خاص طور پر ان ممالک سے جہاں کرنسی کی قدر کم ہوئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "جب درہم بھارتی روپیہ کے مقابلے میں مستحکم ہوتا ہے، تو بھارتی مصنوعات اماراتی کاروباری اداروں کے لیے سستی ہو جاتی ہیں، کیونکہ وہ کم درہم میں زیادہ سامان خرید سکتے ہیں۔ درہم کی قدر امریکی ڈالر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جو دیگر کرنسیوں بشمول بھارتی روپے کے مقابلے میں اس کی طاقت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
علاوہ ازیں، بھارت کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی خسارہ، خاص طور پر تیل اور سونے کے شعبے میں، بھارتی روپے پر دباؤ ڈالتا ہے، جس سے اس کی قدر مزید کم ہوتی ہے اور درآمدات سستی ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ درہم کی مضبوطی سے خوراک اور الیکٹرانکس کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، جو مہنگائی کے دباؤ کو محدود کرنے میں مدد دے گی۔
"تاہم، مہنگائی کا دارومدار صرف درہم کی قدر پر نہیں، بلکہ امریکی ڈالر کے ساتھ اس کی وابستگی اور بڑھتے ہوئے رہائشی اخراجات پر بھی ہے۔ اس وابستگی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات آزادانہ طور پر اپنی مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
لہٰذا، اگرچہ درہم کی مضبوطی سے مہنگائی میں کچھ حد تک کمی ہو سکتی ہے، لیکن اس کا مجموعی اثر عالمی اور مقامی معاشی عوامل پر منحصر ہوگا۔”







