متحدہ عرب امارات

یو اے ای: عرب خاتون نے شوہر کے پاس شادی کی پارٹی کے لیے رقم نہ ہونے کی وجہ سے طلاق لے لی

 

خلیج اردو آن لائن:

متحدہ عرب امارات میں دو سال تک اپنی شادی کی ڈریم پارٹی کا انتظار کرنے والی عرب خاتون نے آخر کار اپنے شوہر سے طلاق لیے درخواست دے دی۔

ابوظہبی میں وفاقی عدالت عظمیٰ نے طلاق کی درخواست قبول کرتے ہوئے خاتون کو حکم دیا کہ وہ اس کے شوہر کی جانب سے جہیز میں دیے گئے 1 لاکھ درہم میں سے 80 ہزار درہم شوہر کو واپس لوٹا دے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق شمالی امارات میں جوڑے نے عدالتی حکام کے روبرو دو سال قبل شادی کے کانٹریکٹ پر دستخط کیے تھے۔

طلاق کی انوکھی وجہ:

عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون اپنی شادی کے بارے میں بہت پر جوش تھی اور اس نے ایک بہت بڑی پارٹی کا خواب دیکھ رکھا تھا جس کے لیے اس نے 2 لاکھ درہم کا ایک لہنگا بھی خرید رکھا تھا جو وہ پارٹٰی پر پہننا چاہتی تھی۔ تاہم دو سال تک کوئی پارٹی نہیں ہوئی۔ جس کے بارے میں اس کے شوہر کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس پارٹی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

ریکارڈ سے مزید پتہ چلتا ہے کہ شادی کے بعد خاتون کبھی بھی شوہر کے گھر نہیں گئی اور دونوں کبھی بھی ایک ساتھ نہیں سوئے۔ کیونکہ شوہر چاہتاتھا کہ وہ اس کے خاندان کے ساتھ رہے کیونکہ وہ ابھی اس کے لیے علیحدہ گھر نہیں لے سکتا۔

تاہم خاتون نے اپنے کیس میں موقف اختیار کیا کہ شوہر نے اس کی ماں کی طرف دیے جانے والا بنگلہ یہ کہ کر لینے سے انکار کردیا کہ وہ اپنا گھر خریدے گا لیکن وہ  دو سال میں گھر بھی نہیں خرید پایا۔

خاتون نے طلاق کی درخواست میں شوہر پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا  کہ اس کے شوہر نے کبھی بھی اسے ماہانہ الاؤنس ادا نہیں کیا اور اس نے خاتون کو اپنی ماں کے ساتھ علاج کے لیے سفر کرنے سے بھی منع کر دیا تھا۔ جس سے خاتون اخلاقی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہوئی۔

درج بالا وجوہات کی بنا پر خاتون نے اپنے شوہر سے طلاق لینے کے لیے درخواست دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ اسے شوہر سے شادی پر ہونے اخراجات بھی واپس دلائے جائیں۔

تاہم، یو اے ای کی عدالت عظمیٰ نے طلاق کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے خاتون کو جہیز کے 1 لاکھ درہم میں سے 80 ہزار شوہر کو واپس لوٹانے کا حکم دیا۔ جبکہ شوہر کو حکم دیا کہ وہ 30 ہزار درہم خاتون کو ادا کرے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button