
خلیج اردو
دبئی: امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور ایپل نے امریکی ورک ویزا رکھنے والے بعض ملازمین کو غیر ضروری بین الاقوامی سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، خبردار کیا گیا ہے کہ ویزا اسٹیمپنگ میں 12 ماہ تک کی تاخیر کے باعث ملازمین امریکا سے باہر پھنس سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ انتباہ امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں شدید بیک لاگ اور سخت امیگریشن پالیسیوں کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔
بزنس انسائیڈر کے مطابق اندرونی میموز میں بتایا گیا ہے کہ کئی امریکی سفارتی مشنز میں ویزا اپائنٹمنٹس کے لیے ایک سال تک کا انتظار درپیش ہے۔ یہ تاخیر نئی امیگریشن ہدایات سے جڑی ہے، جن میں ویزا درخواست دہندگان کی گزشتہ پانچ برس کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ بھی شامل ہے۔
یہ ہدایت H-1B، H-4، F، J اور M ویزا رکھنے والوں پر لاگو ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گوگل کے میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ طویل انتظار کے باعث ایسے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے جو امریکا اور اپنے آبائی ممالک کے درمیان سفر کرتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق نئی سوشل میڈیا اسکریننگ کے باعث اپائنٹمنٹس ری شیڈول ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے ملازمین طویل عرصے تک بیرونِ ملک رکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ گوگل کے ساتھ کام کرنے والی لاء فرم بیری ایپل مین اینڈ لیڈن نے ملازمین کو خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی سفر سے گریز کیا جائے کیونکہ امریکا واپس آنے میں غیر معمولی تاخیر کا خطرہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے H-1B ویزا پالیسی میں مزید سختی کے بعد سنگین ہو گئی ہے۔ نئی پالیسیوں کے تحت ویزا جانچ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے اور رواں سال نئے H-1B ویزا کے لیے 100 ہزار ڈالر فیس بھی متعارف کرائی گئی ہے۔
گوگل اور ایپل، جن کے عالمی سطح پر 3 لاکھ سے زائد ملازمین ہیں، نے بڑھتی نگرانی اور ویزا اپائنٹمنٹس کے بحران کے باعث بعض ملازمین کو امریکا میں ہی رہنے کا مشورہ دیا ہے، جب تک سفر ناگزیر نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق ویزا تجدید، جس کے لیے عام طور پر آبائی ملک جا کر اسٹیمپنگ کرانا ضروری ہوتی ہے، اب خاصی خطرناک ہو چکی ہے۔ جو عمل پہلے چند ہفتوں میں مکمل ہو جاتا تھا، اب اس میں مہینوں لگنے کا خدشہ ہے، جس سے امریکا میں غیر ملکی ورکرز کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔






