
خلیج اردو
سڈنی: آسٹریلیا کے مشہور سماجی کارکن اور بلڈ ڈونر، "سنہری بازو والے آدمی” کے نام سے معروف جیمز ہیریسن 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خون کے عطیات کے ذریعے 2 ملین سے زیادہ بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کی۔
جیمز ہیریسن کے خون میں ایک نایاب اینٹی باڈی "اینٹی ڈی” موجود تھی، جو ایسی ماؤں کے لیے انتہائی مفید تھی جن کا خون اور ان کے ہونے والے بچوں کا بلڈ گروپ مختلف ہوتا ہے۔ اس اینٹی باڈی کی مدد سے نوزائیدہ بچوں میں مہلک بیماری "ریسس بیماری” سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ہیریسن نے 18 سال کی عمر میں پہلی بار خون کا عطیہ دیا اور 81 سال کی عمر تک، تقریباً ہر دو ہفتے بعد خون عطیہ کرتے رہے۔ ان کی مستقل خدمات کے باعث انہیں آسٹریلیا میں ایک قومی ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔
2005 میں، جیمز ہیریسن کے پاس سب سے زیادہ خون کا پلازما عطیہ کرنے کا عالمی ریکارڈ تھا۔ آسٹریلوی ریڈ کراس بلڈ سروس نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
جیمز ہیریسن کی بے لوث خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور ان کا مشن دنیا بھر میں خون کے عطیات کی اہمیت کو اجاگر کرتا رہے گا۔







