
خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی 40 دنوں میں 79 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرکے حکومتی نظام میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی عدلیہ میں اب تک ان میں سے 16 ایگزیکٹو آرڈرز کو چیلنج کیا جا چکا ہے۔
تاریخی طور پر، 1937 کے بعد سے کسی بھی امریکی صدر نے اپنی مدت کے آغاز میں اتنی بڑی تعداد میں ایگزیکٹو آرڈرز جاری نہیں کیے۔ صدر ٹرمپ کے ان احکامات کی رفتار نے نہ صرف ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ انہیں قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
ٹرمپ کے دستخط شدہ ایگزیکٹو آرڈرز کی تعداد ان کے ڈیموکریٹک پیش رو جو بائیڈن کے پورے ایک سال میں جاری کیے گئے آرڈرز کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی پہلی مدتِ صدارت میں، اسی عرصے کے دوران، ٹرمپ نے محض 15 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے تھے، جبکہ اس بار ان کے اقدامات کہیں زیادہ جارحانہ دکھائی دے رہے ہیں۔
موجودہ صدر نے بائیڈن انتظامیہ کے نافذ کردہ قوانین میں ترمیم یا انہیں منسوخ کرنے کے حوالے سے تقریباً ایک تہائی احکامات پر دستخط کیے ہیں۔ ان فیصلوں کو جہاں ریپبلکن حلقوں کی حمایت حاصل ہے، وہیں امریکی عدلیہ اور اپوزیشن کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ کی تبدیلی کی اس خواہش کو ملک میں اندرونی مزاحمت کا سامنا ہے۔ کئی ریاستیں اور شہری حقوق کی تنظیمیں ان احکامات کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر چکی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ان میں سے کئی ایگزیکٹو آرڈرز کی قسمت عدلیہ کے فیصلوں پر منحصر ہوگی۔
صدر ٹرمپ کے اس جارحانہ طرز حکمرانی نے نہ صرف حکومتی پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں بلکہ امریکہ میں سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عدلیہ اور اپوزیشن ان پالیسیوں کے خلاف کس حد تک مزاحمت کرتی ہیں۔







