عالمی خبریں

بھارت کی حمایت پر بنگلہ دیشی عوام میں شدید ناراضی بڑھ گئی

خلیج اردو
بھارت کی جانب سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی کھلی حمایت کے بعد بنگلہ دیش میں عوامی ردعمل مزید شدید ہو گیا ہے۔ ملکی شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ نئی عبوری حکومت کے قیام کے باوجود بھارت نے شیخ حسینہ کی پالیسیوں اور طرزِ حکومت کی پشت پناہی جاری رکھی، جسے وہ بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت سمجھتے ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق ایک تازہ سروے میں یہ سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کے 75 فیصد سے زیادہ شہری چین کے ساتھ بہتر تعلقات کے حامی ہیں، جبکہ بھارت کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی تعداد صرف 11 فیصد تک محدود رہ گئی ہے، جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے فاصلے کو واضح کرتی ہے۔

عوامی رائے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت نے نہ صرف شیخ حسینہ کی طویل آمریت نما طرزِ حکومت کو سہارا دیا بلکہ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں بارہا اثراندازی کی کوشش کی، جس سے ملک میں عدم اطمینان میں اضافہ ہوا۔ محمد یونس کی قیادت میں قائم ہونے والی عبوری حکومت نے بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ عشروں کے دوران بھارت کے ساتھ کیے گئے متعدد منصوبوں کو کم کر دیا گیا ہے، اور مستقبل کے تعاون کے حوالے سے نئی پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر استوار کرنا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button