
خلیج اردو
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعتِ اسلامی کے مرکزی رہنما اظہر الاسلام کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اظہر الاسلام 2012 سے قید میں تھے اور ان کے خلاف کوئی اور مقدمہ زیر التوا نہیں ہے۔ یہ فیصلہ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دیتا ہے، جس میں 30 دسمبر 2014 کو انہیں نو میں سے پانچ الزامات پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
اظہر الاسلام نے 28 جنوری 2015 کو اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اپیلٹ ڈویژن میں اپیل دائر کی تھی، جس پر اب فیصلہ سنایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیش کی عدالتی تاریخ میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس کے ممکنہ سیاسی اور سماجی اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔






