
واشنگٹن(خلیج اردو آن لائن) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاو اور ویکسین کے حوالے سے عالمی برادری کے ایک پیج پر نہ ہونے پر اس وبا کے علاج سے متعلق مختلف خدشات جنم لے رہے ہیں۔
امریکی ارب پتی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ یہ عالمی وبا طویل المدتی ہو سکتی ہے اگر وہ دوائیں جن سے کووڈ 19 کا مقابلہ کیا جاتا ہے یا مستقبل میں بننے والی ویکسین ان کے پاس جائے جو اس کی سب سے زیادہ قیمت ادا کریں۔
بی بی سی کے مطابق انہوں نے کہا اگر یہ دوائیں اور ویکسینز انھیں ملیں جو ان کی زیادہ قیمت ادا کریں گے تو پھر ’طویل المدتی، غیرمنصفانہ اور ہلاکت خیز عالمی وبا‘ ہماری منتظر ہے۔
گیٹس نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی دوائیں ان ممالک میں دستیاب ہونی چاہییں جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں ویکسین کی تیاری کا عمل جاری ہے اور یورپی ممالک اور امریکہ خاص کر ایسے ممکنہ ویکسینز کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے باعث یہ خدشہ بھی بڑھ گیا ہے کہ امیر ممالک اس طرح کی مفید ادویات کی خوراک کا ایک بڑا حصہ خرید نہ لیں۔
یورپیئن کمشن اور عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس غیر منصفانہ مقابلے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایسی صورت میں امریکہ کے باسیوں کو ترجیح دیں گے۔






