
خلیج اردو
انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا میں مسلسل طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق شمالی سماٹرا میں کئی روز سے جاری شدید بارشوں نے ضلع تپانولی سلاطان کے بڑے علاقوں کو پیر سے زیرِ آب کر دیا ہے۔
بی این پی بی کے ترجمان عبدال مہاری نے بتایا کہ تپانولی سلاطان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے، 58 زخمی ہوئے جبکہ 2,851 افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ مقامی ڈیزاسٹر ایجنسی بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ صاف کر رہی ہے، جس نے ضلع کی مرکزی سڑکوں کو بند کر رکھا ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبے کے کم از کم تین دیگر اضلاع بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ موسمیاتی ادارے نے بتایا کہ موجودہ خطرناک موسم کی وجہ وہ موسمیاتی ساختیں ہیں جنہیں سائیکلون سیڈز کہا جاتا ہے، جو آگے چل کر ٹراپیکل سائیکلون بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انڈونیشیا میں سالانہ مون سون، جو عام طور پر جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، شدید بارشوں کا باعث بنتا ہے اور اکثر لینڈ سلائیڈنگ، اچانک سیلاب اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی نے موسموں کے دورانیے اور شدت میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جس سے بارشیں مزید تیز اور بے ترتیب ہو گئی ہیں۔
اسی ماہ وسطی جاوا میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 13 تاحال لاپتا ہیں۔







