
خلیج اردو
اقوام متحدہ، نیویارک: اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے جیروم بونافون نے پاکستانی اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے۔ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں بھارت کی حالیہ یکطرفہ فوجی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے فرانسیسی سفیر کو بھارت کی جانب سے پاہلگام حملے کا الزام بغیر کسی شواہد کے پاکستان پر عائد کرنے پر تشویش سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستانی شہریوں پر یکطرفہ حملے، شہری املاک کی تباہی، اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قوانین اور خطے کے تزویراتی توازن کے خلاف اقدامات ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں جارحیت کو "نیا معمول” بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ ہے اور اس نے بڑی قربانیاں دے کر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان عناصر کے خلاف بھی پرعزم ہے جو بھارت سے مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں۔
وفد نے جموں و کشمیر کے تنازع کے پُرامن حل پر زور دیا اور کہا کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو نے فرانس سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کے تسلسل، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور پاکستان و بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز میں اپنا کردار ادا کرے۔
فرانسیسی سفیر جیروم بونافون نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ بھارت اور پاکستان کو تحمل اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کو ناگزیر قرار دیا۔
وفد میں حنا ربانی کھر، شیری رحمٰن، ڈاکٹر مصدق ملک، خرم دستگیر خان، جلیل عباس جیلانی، تہمینہ جنجوعہ، اور بشریٰ انجم بٹ بھی شامل تھیں۔







