
**خلیج اردو**
دبئی: امارات میں مقیم 48 سالہ بھارتی خاتون نشا ڈینس، جو گزشتہ دس برس سے گردن کے شدید درد، اعصابی کھنچاؤ اور محدود حرکت کے باعث زندگی بھر کی مشکلات کا سامنا کر رہی تھیں، پیچیدہ ریڑھ کی ہڈی کی ریویژن سرجری کے بعد آخرکار معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئی ہیں۔
نشا کو گردن سے بائیں بازو اور اوپری کمر تک پھیلنے والا شدید درد کئی برس سے لاحق تھا۔ دس سال قبل وہ پہلے ہی C5 اور C6 کی خرابی کے باعث ڈسک نکالنے اور ہڈیوں کو جوڑنے کی سرجری کروا چکی تھیں، مگر وقت کے ساتھ ان کی تکلیف میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا گیا۔ فزیوتھراپی اور ادویات کے باوجود نئے ابھرتے ہوئے بون اسپرز اور C5-C6 اور C6-C7 کے گرد بڑھتے ہوئے اسکار ٹشو نے ان کے اسپائن اور اعصاب پر دباؤ بڑھا دیا تھا، جس سے مستقل معذوری یا فالج کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
مزید بگڑتی حالت کے بعد نشا نے میڈ کیئر اسپتال شارجہ کے اسپیشلسٹ نیورو سرجن ڈاکٹر بوبی جوز سے رجوع کیا، جنہوں نے اس کیس کو ’’انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ دس سال بعد اسپائن ریویژن سرجری کرنا ایک نہایت حساس اور مہارت طلب عمل تھا۔
سرجری کے چند دن بعد ہی نشا نے واضح بہتری محسوس کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے جاری تیز اور جلن والے درد میں نمایاں کمی آئی ہے اور وہ ایک بار پھر عام زندگی بسر کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا:
"مجھے لگتا ہے جیسے مجھے دوبارہ زندگی ملی ہو۔ اب میں چل سکتی ہوں، گھر کے کام کر سکتی ہوں، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار سکتی ہوں اور بلا خوف سفر بھی کر سکتی ہوں۔ یہ میرے لیے ایک نعمت ہے۔‘‘
نشا نے یہ پیغام بھی دیا کہ جو لوگ طویل عرصے سے ریڑھ کی ہڈی کے درد میں مبتلا ہیں وہ امید نہ چھوڑیں، طبی علاج پر بھروسا رکھیں اور اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔
ڈاکٹر بوبی جوز کے مطابق:
’’وہ شدید اور مستقل درد میں مبتلا تھیں، حالانکہ ہر ممکن غیر جراحی علاج آزمایا جا چکا تھا۔‘‘





