
خلیج اردو
دبئی: 32 سالہ بھارتی نژاد کیرالہ کے رہائشی نبیل سی کے لیے دبئی رن ہمیشہ ایک سالانہ روایت رہی ہے، لیکن اس سال مارچ میں فٹبال کھیلتے ہوئے گھٹنے کی شدید چوٹ اور بعد ازاں سرجری کے باعث یہ دُور تکمیل ہوتا خواب لگ رہا تھا۔ کئی ماہ تک بستر پر آرام اور طویل بحالی کے بعد بھی نبیل نے ہمت نہ ہاری اور دبئی فٹنس چیلنج کے اپنے پسندیدہ ایونٹ سے غیر حاضر رہنا قبول نہ کیا۔
نبیل، جو گزشتہ چھ برس سے مسلسل دبئی رن میں حصہ لیتے رہے ہیں، اس بار DFC 2025 کے اعلان پر افسردہ ہوئے کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ شاید اس سال شریک نہ ہو سکیں۔ لیکن جیسے ہی اکتوبر میں ساتویں ایڈیشن کی رجسٹریشن کھلی، نبیل کے عزائم پھر سے جاگ اٹھے۔
انہوں نے گزشتہ ماہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا، جس نے انہیں کوشش کرنے کی ترغیب دی اور فزیوتھراپی کے ساتھ مخصوص ورزشیں تجویز کیں۔ ڈاکٹر کے مشورے اور اپنے عزم پر اعتماد کرتے ہوئے نبیل نے تین ہفتے قبل باقاعدہ تیاری شروع کی اور جم جوائن کیا تاکہ دوبارہ طاقت اور فٹنس حاصل کی جا سکے۔
نبیل کا کہنا ہے کہ ’’مارچ میں چوٹ لگی اور جون تک بستر سے اٹھ نہیں سکتا تھا۔ دبئی رن کا اعلان ہوا تو دل افسردہ ہوا کہ شاید اس بار شامل نہ ہو سکوں۔ لیکن میں جانتا تھا کہ 23 نومبر کو دبئی رن ہو اور میں گھر بیٹھا رہوں، یہ ممکن نہیں۔‘‘
دوستوں کی مکمل حوصلہ افزائی، مستقل ورزش اور ذہنی مضبوطی نے بالآخر نبیل کو شیخ زاید روڈ پر 5 کلومیٹر کی کامیاب دوڑ مکمل کرنے کے قابل بنا دیا۔ دورانِ دوڑ آدھے راستے پر کچھ مشکل پیش آئی، لیکن نبیل نے ہمت نہ ہاری اور بھرپور خوشی کے ساتھ دوستوں کے درمیان فخر سے اپنی منزل حاصل کی۔
یہ کامیابی نہ صرف ان کی جسمانی بحالی کا ثبوت ہے بلکہ دبئی فٹنس چیلنج کی اس روح کا بھی مظہر ہے جو شہریوں کو اپنی حدوں سے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔







